نوبیل انعام یافتہ خواتین کے حقوق کی علمبردار ملالہ یوسفزئی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی یونیورسٹی کے دنوں کے دوران کئی بار منشیات استعمال کیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، ملالہ نے یہ انکشاف اپنی نئی یادداشتوں پر مبنی کتاب ‘فائنڈنگ مائی وے’ میں کیا ہے، جو 21 اکتوبر 2025 کو شائع ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے: کارساز ٹریفک حادثہ کیس، ’ پتا لگایا جائے خاتون نے کس قسم کا نشہ کر رکھا تھا کہ 2 افراد کی جان لے لی‘

یہ ان کی سب سے ذاتی اور کھری روداد قرار دی جا رہی ہے، جس میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران پیش آنے والی ذہنی مشکلات، صدمات اور ذاتی جدوجہد کا احوال بیان کیا ہے۔

ملالہ لکھتی ہیں کہ آکسفورڈ میں ایک رات وہ اپنی دوست انیسا کے ساتھ ایک پرانے شیڈ میں گئیں جہاں دو لڑکے منشیات استعمال کر رہے تھے۔ تجسس کے باعث اور اثرات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے انہوں نے بھی ایک عجیب شیشے کے آلے کے ذریعے وہ نشہ آزمایا۔

یہ بھی پڑھیے: وہ اسکول جو ملالہ جیسی سماجی کارکنوں کے منتظر ہیں

ان کے مطابق اس سے پہلے وہ کینابس (چرس) آزما چکی تھیں لیکن اس بار اثر بہت زیادہ تھا۔ دھواں اندر کھینچنے کے بعد انہیں چکر آنے لگے، دل گھبرانے لگا اور جسم پر قابو نہیں رہا۔

‘طالبان حملے کی یادیں لوٹ آئیں’

ملالہ نے اپنی یادداشت میں لکھا کہ اس تجربے کے دوران انہیں اچانک 2012 کے طالبان حملے کی یادیں اور صدمات تازہ ہو گئے۔ ‘میرا جسم کانپنے لگا، پٹھے حرکت کرنا چھوڑ گئے، مجھے لگا جیسے میں دوبارہ اسی دن میں پہنچ گئی ہوں،  خون، شور اور خوف سے گھری ہوئی۔’

انہوں نے مزید لکھا کہ ایسا لگا جیسے میں پھر کومے میں جا رہی ہوں۔ سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی، اور مجھے حلق میں نلکی محسوس ہو رہی تھی، جیسے اسپتال میں تھی۔

یہ بھی پڑھیے: کیا ’ملالہ فنڈ‘ پاکستان میں تعلیم سے محروم 2 کروڑ سے زائد بچوں کے لیے راحت کا سبب بن سکتا ہے؟

ملالہ نے بیان کیا کہ وہ ہاسٹل واپس جانے میں لڑکھڑاتی رہیں، دوست کے سہارے کمرے تک پہنچیں مگر کچھ دیر بعد زمین پر گر گئیں۔ ‘میں مسلسل قے کرتی رہی، پوری رات جاگتی رہی، خود کو تھپڑ مارتی رہی تاکہ ہوش میں رہ سکوں، مجھے ڈر تھا کہ اگر سو گئی تو مر جاؤں گی۔’

صبح کے وقت وہ کچھ بہتر محسوس کر رہی تھیں مگر کئی دنوں تک ذہنی صدمے اور خوف کی کیفیت میں رہیں۔

کتاب میں انہوں نے نہ صرف اپنی عالمی مہم برائے لڑکیوں کی تعلیم پر روشنی ڈالی ہے بلکہ اپنی ذہنی صحت، خوف اور بحالی کے سفر کو بھی بے باکی سے بیان کیا ہے۔ اس نئی کتاب کو ملالہ کی زندگی کا سب سے کھرا اور بے لاگ اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حملہ طالبان ملالہ منشیات نشہ نفسیات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حملہ طالبان ملالہ منشیات نفسیات انہوں نے کیا ہے

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور