ممبئی کو برسوں کی تاخیر کے بعد دوسرا انٹرنیشنل ایئرپورٹ مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
دہائیوں کی تاخیر کے بعد ممبئی کو دوسرا بین الاقوامی ایئرپورٹ مل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 61 سال پہلے ممبئی آکر بے گھر اور بھوکا رہا، جاوید اختر کا اپنے کیرئر کے بارے میں جذباتی پیغام
سی ای این کے مطابق ناوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے پہلی مرحلے میں سالانہ 20 ملین مسافروں کی گنجائش کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے جس سے ممبئی کے پرانے چترپتی شیو جی مہاراج ایئرپورٹ پر دباؤ کم ہو گا۔
یہ منصوبہ پہاڑوں کو ہموار کرنے، دریاوں کو موڑنے اور پل بنانے کے پیچیدہ کاموں کے بعد مکمل ہوا ہے۔
مزید پڑھیے: بھارتی مسافر کا ’یادگار‘ ہوائی سفر، ممبئی سے بنگلورو تک وقت بیت الخلا میں گزرا
سنہ 2032 تک یہاں 4 ٹرمینلز بنائے جائیں گے جو سالانہ 90 ملین مسافروں کی سہولت دیں گے جس سے ممبئی دنیا کے بڑے ہوائی اڈوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔
بھارت میں ایئرپورٹس کی تعداد 160 ہوگئیوزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو ایئرپورٹ کا افتتاح کیا۔
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایئرپورٹس کی تعداد 74 سے بڑھ کر 160 ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: ممبئی: بارش کا پانی امیتابھ بچن کے بنگلے میں بھی داخل، احاطہ ٹخنوں تک بھر گیا
انہوں نے بتایا کہ اس نئے ایئرپورٹ سے مہاراشٹرا کے کسان اور ماہی گیر عالمی منڈیوں سے بہتر روابط قائم کر سکیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ممبئی ممبئی کا دوسرا انٹرنیشنل ایئرپورٹ ناوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ممبئی کا دوسرا انٹرنیشنل ایئرپورٹ ناوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔