20 برسوں میں کرنسی ختم، انسانوں کیلیے کام اور پیسہ غیرمعنی ہوجائیں گے؛ ایلون مسک
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
ٹیکنالوجی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور امیر ترین شخصیات میں سے ایک، ایلون مسک نے آئندہ 20 برسوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے ہیں۔
یہ انکشافات ایلون مسک نے سعودی سرمایہ کاری فورم کے ایک غیر معمولی سیشن میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیے۔
اس فورم میں این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ اور سعودی وزیر برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر عبداللہ السواحہ بھی شریک تھے۔
ایلون مسک نے انکشاف کیا کہ آئندہ برسوں میں انسان نما روبوٹ دنیا کی "سب سے بڑی ایجاد" ہوں گے جو ہر قسم کی صلاحیتوں سے لیس ہوں گے۔
ٹیکنالوجی کے بادشاہ کہلائے جانے والے ایلون مسک نے مزید بتایا کہ ان روبوٹس کی صلاحیتیں لیبر مارکیٹ کو از سر نو تشکیل دیں گی۔
انھوں نے کہا کہ اس نئی ایجاد سے صنعتی اور مختلف سروسز فراہم کرنے والے شعبوں میں بے مثال نئے مواقع سامنے آئیں گے۔
ایلون مسک کے بقول نئے روبوٹس کی بدولت پیداواری صلاحیت کے تصور مکمل طور پر بدل کر رہ جائے گا، معیشت بہتر ہوگی اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔
ایلون مسک نے پیشن گوئی کہ کہ مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹس کی ٹیکنالوجیز سے دو دہائیوں میں کام اور پیسے کے تصورات تبدیل ہوجائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگلے 10 سے 20 سال کے اندر انسانوں کے لیے کام ایک ضرورت نہیں رہے گا بلکہ یہ ایک ایسا اختیار بن جائے گا جیسے ورزش کرنا یا دیگر شوق پورے کرنا۔
ایلون مسک کے بقول اس کی وجہ ذہین روبوٹ ہوں گے جو زیادہ تر پیداواری اور خدماتی کاموں کو زیادہ کارکردگی اور کم قیمت پر انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایلون مسک نے ہوں گے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔