مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی تازہ ترین بربریت میں ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی آباد کاروں نے مسجد پر حملہ کرکے اس میں توڑ پھوڑ کی اور اسے نذر آتش کردیا۔ مزید برآں اس پر گریفیٹی کا اسپرے کیا اور فلسطینیوں کیخلاف نسل پرستانہ جملے لکھے۔

اوقاف اور مذہبی امور کی وزارت نے کہا کہ آباد کاروں نے شمالی مغربی کنارے میں گاؤں سلفیت کے قریب الحاجہ حمیدہ مسجد پر حملہ کیا۔

Shattered glass and scorched floors show where Israeli settlers set fire to a mosque near the village of Salfit in the occupied West Bank, Palestinians say pic.

twitter.com/mEFGoizlDY

— Reuters (@Reuters) November 13, 2025

فلسطینی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں مسجد کے کچھ حصوں کو آگ لگا دی گئی اور آباد کاروں کے گروہوں کے ذریعہ نسل پرستانہ خاکے بنائے گئے۔ یہ آبادکاری اسلامی مقدس مقامات اور شہریوں کی املاک پر روزانہ حملے کرتے ہیں اور ان خلاف ورزیوں کی شدت اور نوعیت دونوں میں منظم طور پر اضافہ ہورہا ہے۔

آباد کاروں نے مسجد پر حملہ فجر کی نماز سے قبل کیا۔ بہت سے گھروں اور کاروں پر حملہ نہیں کیا گیا بلکہ یہ حملہ ایک مذہبی علامت پر کیا گیا تھا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دیواروں پر پیغمبرﷺ کیخلاف بھی گستاخانہ جملے لکھے گئے تاکہ مسلمانوں کو اشتعال انگیزی پر اکسایا جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: آباد کاروں کاروں نے پر حملہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم