Al Qamar Online:
2026-07-24@06:15:12 GMT

ملٹری آپریشن سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی،عمران خان

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

ملٹری آپریشن سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی،عمران خان

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کا کہنا ہے کہ فوج کا دشمن نہیں ہوں بطور سیاستدان پالیسی پر اس لیے تنقید کرتا ہوں تاکہ کوئی حل نکلے۔

 راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں وکلاءاور پارٹی رہنمئوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اپنی فیملی فوج میں ہے، فوج سے میری کوئی دشمنی نہیں ہے بلکہ فوج کو پسند کرتا ہوں، فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور شہدا بھی ہمارے ہیں لیکن جس چیز سے ملک کو نقصان ہو رہا ہو اس پر تنقید کرنا فرض ہے۔

 غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند ہونا چاہیے، افغانستان پر حملوں کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ دہشتگردی کو ختم کرنے کےلیے آپ کو ایک پالیسی بنانی ہے، صرف ملٹری آپریشن کے ذریعے دہشت گردی کو ختم نہیں کرسکتے، اس کےلیے آپ کو سیاسی حل بھی ڈھونڈنا ہے۔

 میں سیاست دان ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر چیز کا حل سیاست میں سیاسی طریقے سے بھی ہونا چاہیے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ دہشت گردی کا خاتمہ افغانستان سے بات کیے بغیر ممکن ہو۔

 افغانستان سے جنگ کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوگا، افغان حکومت کو لے کر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا، نئی حکومت ایسی پالیسی بنائے کے بغیر نقصان دہشت گردی کا خاتمہ ہو، اگر دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ملٹری آپریشن ضروری ہے تو سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار