لاہور: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر حالیہ مؤقف نہ صرف اصولی کمزوری کی علامت ہے بلکہ یہ قدم تنازعِ کشمیر کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کو تسلیم کر کے جنرل مشرف والی غلطی دہرائی ہے۔

اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ فلسطین کے مسئلے پر کمزور یا مبہم پالیسی پاکستان کی خارجہ سمت کو بری طرح متاثر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین صرف عرب دنیا کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس پر کسی بھی قسم کی مصالحت یا خاموشی قوم کے جذبات کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے امریکا کے دباؤ میں آکر قومی مؤقف کو کمزور کیا، جو مستقبل میں کشمیر جیسے حساس معاملے پر بھی پاکستان کی سفارتی حیثیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے اس موقع پر سینیٹر مشتاق احمد خان کی بحفاظت وطن واپسی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی استقامت اور جرات ہر کارکن کے لیے مثال ہے۔ مشتاق احمد جیسے لوگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی صرف بیانات سے نہیں بلکہ عمل سے ظاہر ہونی چاہیے۔

اپنے تبصرے میں لیاقت بلوچ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کی باہمی لڑائی دراصل ’’نوراکشتی‘‘ ہے، کیونکہ اقتدار کے حصول اور ذاتی مفادات کے تحفظ میں دونوں یکساں شریک ہیں۔ عوامی خدمت کا دعویٰ محض نعرہ ہے، حقیقت میں ان کی سیاست طاقت اور مفاد کے گرد گھومتی ہے۔

لیاقت بلوچ نے مزید بتایا کہ ملی یکجہتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’قومی فلسطین سیمینار‘‘ 9 اکتوبر کو لاہور میں منعقد ہوگا، جس میں مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین شریک ہوں گے۔ اس سیمینار کا مقصد امتِ مسلمہ میں یکجہتی پیدا کرنا اور فلسطین کے لیے اجتماعی آواز بلند کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امتِ مسلمہ متحد ہو کر عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے مؤثر مہم چلائے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کسی بھی بیرونی دباؤ کو مسترد کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے انہوں نے نے کہا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق  حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع