دماغی صحت کی بہتری کے لیے طلاق لی، مگر اب رشتوں کے کھو جانے کا ڈر ستاتا ہے، شرمین علی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اداکارہ شرمین علی نے بتایا کہ انہوں نے دماغی صحت کی بہتری کے لیے طلاق لی تھی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اندر رشتوں کے کھو جانے کا خوف پیدا ہوگیا ہے۔
شرمین علی نے حال ہی میں ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی اور طلاق کے فیصلے سے متعلق کھل کر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ طلاق کا فیصلہ ان کا اپنا تھا اور اس معاملے پر بات کرنا ان کے لیے نہایت مشکل ہے۔
شرمین علی کا کہنا تھا کہ علیحدگی کا فیصلہ انہوں نے اپنی دماغی صحت کی بہتری کے لیے لیا تھا اور اس وقت انہیں مکمل یقین تھا کہ وہ درست قدم اٹھا رہی ہیں۔
ان کے مطابق جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا تو ان کے اردگرد موجود تمام لوگ اس کے خلاف تھے، کسی نے بھی ان کی حمایت نہیں کی، لیکن اس وقت وہ بہت مضبوط اور پُرعزم تھیں، انہیں محسوس ہوتا تھا کہ انہیں کسی کی ضرورت نہیں، وہ خود اپنے لیے کافی ہیں اور ہر مشکل اکیلے ہی سنبھال سکتی ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ چونکہ اس وقت وہ کم عمر تھیں، اس لیے انہیں رشتوں کے کھو جانے کا احساس بھی نہیں تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اندر یہ خوف بڑھتا گیا اور اب انہیں ہر رشتے کے ٹوٹنے کا ڈر رہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال ان کے اسی خوف نے انہیں بہت متاثر کیا، جب ایک قریبی دوست نے ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر ان سے تعلق ختم کرلیا، دوست کو کھونے کے خوف نے انہیں شدید متاثر کیا اور وہ کئی مہینوں تک خاموش اور افسردہ رہیں۔
اداکارہ کے مطابق کچھ عرصے بعد دونوں کے درمیان دوستی تو بحال ہوگئی، لیکن انہیں محسوس ہوا کہ دوست کی آنکھوں میں ان کے لیے وہ عزت باقی نہیں رہی۔
شرمین علی نے مزید کہا کہ ان کے کچھ قریبی لوگ اکثر انہیں سمجھاتے بھی ہیں کہ وہ دوسروں کے لیے خود کو اس قدر نہ جھکائیں، کیونکہ ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
تاہم، اداکارہ کے مطابق وہ چاہ کر بھی اپنے اندر سے رشتوں کو کھونے کے اس خوف کو ختم نہیں کر پارہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شرمین علی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔