مچھلی اور خشک میوہ جات الزائمر کے خطرات کم کرنے میں مددگار: تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مچھلی، بیریز اور خشک میوہ جات جیسی صحت مند چکنائی سے بھرپور غذائیں الزائمرز کے خطرے سے دوچار افراد کی دماغی صحت کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرسکتی ہیں۔
امریکی ریاست مسوری کی یونیورسٹی آف مسوری کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ چکنائی سے بھرپور اور کم کاربوہائیڈریٹ والی خوراک، جسے کیٹوجینک ڈائٹ کہا جاتا ہے، الزائمرز کے خطرے میں مبتلا افراد کے دماغی افعال کی بگاڑ کی رفتار کو نہ صرف سست کرسکتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں اسے روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے جرنل آف نیورو کیمسٹری میں شائع ہوئی، جس میں محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا کیٹوجینک غذا ایسے افراد کے لیے خاص طور پر مؤثر ثابت ہوسکتی ہے جو APOE4 جین کے حامل ہیں۔ یہ جین عمر کے بڑھنے کے ساتھ الزائمرز کی بیماری لاحق ہونے کا سب سے مضبوط جینیاتی سبب سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں APOE4 جین کو دماغی میٹابولک خرابیوں اور آنتوں میں بیکٹیریا کی تبدیلی سے منسلک قرار دیا جا چکا ہے۔ تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے تجویز کیا ہے کہ اگر ان ابتدائی جسمانی و دماغی تبدیلیوں کو غذا کے ذریعے نشانہ بنایا جائے تو الزائمرز کی علامات ظاہر ہونے سے قبل ہی بیماری کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ غذائی عادات میں بہتری، بالخصوص صحت مند چکنائیوں کا استعمال، دماغی صحت کے لیے ایک مؤثر اور فطری طریقہ علاج بن سکتا ہے، جو مستقبل میں الزائمرز کے خلاف ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔