ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
سٹی42: لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیراعظم کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آئی آر آئی ایس (IRIS) سسٹم میں موجود تکنیکی خامیاں اور سسٹم ایررز ٹیکس گوشوارے بروقت جمع کرانے میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کیلئے ای پی اے کا بڑا اقدام
خط کے مطابق سسٹم "ای او پی" (AOP) آمدنی پر غلط طور پر ٹیکس کریڈٹ یا سیشن 4AB کے تحت ٹیکس کا حساب لگا رہا ہےحالانکہ قانون کے مطابق اے او پی کی شیئر آمدنی مستثنیٰ ہوتی ہے۔ لاہور ٹیکس بار نے موقف اختیار کیا کہ سسٹم کا از خود ٹیکس چارج کرنا غیر قانونی ہے۔
ایسوسی ایشن نے مزید نشاندہی کی کہ کم از کم ٹیکس نظام (Minimum Tax Regime) میں بھی سسٹم آمدنی کی غلط تقسیم کر رہا ہے، جو واضح طور پر قانون کے خلاف ہے۔ سیکشن 151 کے تحت قرض پر منافع (Profit on Debt) کے ٹیکس کے غلط حساب پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعلیٰ کے پی کے حلف کا معاملہ: پشاور ہائیکورٹ کا درخواست پر فیصلہ محفوظ
لاہور ٹیکس بار کے مطابق، ان تمام تکنیکی خامیوں کے باعث ٹیکس دہندگان اور ٹیکس پریکٹیشنرز شدید مایوسی کا شکار ہیں، جبکہ متعدد افراد بروقت ریٹرن فائلنگ سے قاصر رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ریٹرن فارم 219 دن کی تاخیر سے جاری کیا گیا، جس سے قانونی مدت کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا۔
خط میں لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر 2025 تک بڑھا دی جائے تاکہ ٹیکس گزاروں کو سہولت اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔
بغیر آنسو بہائے پیاز کاٹنا چاہتے ہیں؟ سائنسدانوں نے آسان طریقہ دریافت کرلیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔