منگنی ٹوٹنے پر لڑکی نے سابق منگیتر سے معاوضہ مانگ لیا، رقم سن کر لڑکا دنگ رہ گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
چین میں ایک دلچسپ اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے، جہاں منگنی کے بعد رشتہ ختم کرنے والی ایک خاتون نے اپنے سابق منگیتر سے 30,000 یوآن (تقریباً 4,200 امریکی ڈالر) کا اضافی معاوضہ طلب کر لیا، جسے اُس نے ”اخراجات اور جذباتی پریشانی“ کی فیس قرار دیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ چونکہ اب شادی منسوخ ہو چکی ہے، اس لیے اسے مکمل مالی ادائیگی کی جانی چاہیے۔ اس انوکھے مطالبے نے چینی سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے اور اب تک 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد لوگ اس واقعے پر اپنی رائے دے چکے ہیں۔
ساوتھ چائنامارننگ پوسٹ کے مطابق، اس جوڑے کی منگنی رواں سال جنوری میں ہوئی تھی اور شادی نومبر میں طے تھی۔ اس دوران، لڑکے کے خاندان نے منگنی کے طور پر 200,000 یوآن (تقریباً 28,000 امریکی ڈالر) کا ”بریڈ پرائس“ یا مہر نما تحفہ لڑکی کے خاندان کو دیا، جو کہ چین کے کئی علاقوں میں رائج ایک روایت ہے۔ شادی کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں، ہوٹل بُک تھا اور اہلِ خانہ کو مدعو بھی کر دیا گیا تھا۔
تاہم، چند ہفتے قبل لڑکی نے اچانک شادی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ، ’لڑکا حد سے زیادہ ایماندار ہے اور اس کی آمدنی بھی کم ہے۔اس لیے وہ رشتہ نہیں نبھا سکتی۔‘
لڑکی نے کہا کہ وہ تحفے میں ملی رقم واپس کرنے کو تیار ہے، مگر اُس نے 30,000 یوآن رکھنے کی اجازت طلب کی، جس کے بارے میں اُس کا کہنا تھا کہ یہ رقم اُن ملاقاتوں اور تصاویر کے سیشنز کے دوران ہونے والے اخراجات اور جذباتی نقصان کی تلافی ہے۔
رشتہ کرانے والے شخص نے جنہیں مقامی میڈیا میں ”وان“ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے بتایا کہ لڑکی کا یہ مطالبہ غیر معمولی ہے اور ان کے کیریئر میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔
وان نے کہا، ’میں نے گزشتہ 10 سال میں ہزاروں رشتے کروائے ہیں، لیکن اتنی زیادہ شرائط اور ناز نخرے کسی خاندان میں نہیں دیکھے۔ یہ مطالبہ اخلاقی طور پر درست نہیں۔‘
وان نے یہ بھی وضاحت کی کہ لڑکا اور لڑکی کی جو تصویریں لی گئی تھیں، اُن میں قریبی پوز صرف فوٹوگرافر کی ہدایت پر بنائے گئے تھے۔
فریقین کے درمیان کئی دن تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک تصفیہ طے پایا، جس کے تحت لڑکی نے 170,500 یوآن (تقریباً 24,000 امریکی ڈالر) واپس کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
چین میں منگنی کے موقع پر قیمتی تحائف دینا خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایک پرانی روایت ہے، جہاں لڑکیوں کی تعداد کم ہونے کے باعث رشتے طے کرنا مزید مہنگا اور پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ان تحائف کی مالیت عام طور پر 100,000 سے 500,000 یوآن (تقریباً 70,000 امریکی ڈالر) تک ہو سکتی ہے، جو اکثر لڑکے والوں پر شدید مالی دباؤ ڈالتی ہے، جس کی وجہ سے ایسے تنازعات آئے دن خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ سال ہونان صوبے میں پیش آیا تھا، جہاں ایک شخص نے اپنی سابق منگیتر اور اس کے والد کو عدالت میں گھسیٹا تھا کیونکہ وہ منگنی کے 230,000 یوآن (تقریباً 32,000 امریکی ڈالر) واپس کرنے کو تیار نہ تھے۔ عدالت نے رقم کی واپسی کا حکم دیا، مگر عمل درآمد نہ ہونے پر وہ شخص میڈیا کے ذریعے انصاف کے حصول کی کوشش کرتا رہا اور میڈیا کی مدد سے اپنی رقم واپس لینے میں کامیاب ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: 000 امریکی ڈالر منگنی کے لڑکی نے 000 یوآن
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔