اسرائیل کی غزہ پر تباہ کن جنگ تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے اور اب اس کے خلاف مخالفت صرف عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ خود یہودی برادری کے اندر سے بھی اٹھنے لگی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی یہودیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد کھلے عام اسرائیل کی کارروائیوں کو ’جنگی جرائم‘ اور ’نسل کشی‘ قرار دے رہی ہے، جو ماضی میں غیر متزلزل سمجھی جانے والی اسرائیل کے لیے بیرون ملک مقیم یہودیوں کی جانب سے حمایت میں ایک بڑی دراڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ تبدیلی دراصل 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد شروع ہونے والے طویل فوجی آپریشن کے خلاف عالمی ردعمل کا حصہ ہے، واشنگٹن سے سڈنی تک عوامی رائے اسرائیل کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

ایک حالیہ سروے کے مطابق 42 فیصد امریکی بالغ افراد نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس تنازعے سے نمٹنے کی پالیسی پر عدم اطمینان ظاہر کیا، جبکہ آسٹریلیا میں اسرائیلی قیادت پر پابندیوں کی حمایت بڑھ رہی ہے، خود اسرائیل میں بھی اکثریت اب سمجھتی ہے کہ غزہ کی جنگ ختم ہونی چاہیے۔

واشنگٹن پوسٹ کے ایک سروے کے مطابق 61 فیصد امریکی یہودیوں کا ماننا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم کیے ہیں، جبکہ تقریباً 40 فیصد اسے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

ایک تہائی کے قریب افراد کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل کی حد سے زیادہ حمایت کر رہا ہے، جبکہ دو تہائی سے زیادہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت کو منفی انداز میں دیکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: لاطینی امریکا کے رہنما اسرائیل مخالف مؤقف کیوں اپناتے ہیں؟

اس کے باوجود بیشتر امریکی یہودی اسرائیل سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں، اس کے وجود کو یہودی قوم کے مستقبل کے لیے ضروری سمجھتے ہیں اور امریکا کی فوجی امداد جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ تاہم تقریباً ایک تہائی نے کہا کہ وہ خود امریکا میں محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ 80 فیصد یا اس سے زیادہ امریکی یہودی غزہ میں شہری ہلاکتوں، حماس کے قبضے میں اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیلی فوجیوں کی سلامتی پر تشویش رکھتے ہیں۔ اکثریت نے کہا کہ جنگ کے جاری رہنے کی ذمہ داری اسرائیل، حماس، نیتن یاہو اور امریکا سب پر عائد ہوتی ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 2 سال بعد امریکی عوام میں اسرائیل کی جنگی پالیسی اور حکومت کے بارے میں بداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ امریکا، یہودیوں نے احتجاج کیوں کیا؟

اب 59 فیصد امریکی اسرائیلی حکومت کو منفی انداز میں دیکھتے ہیں، جو 2024 کے آغاز میں 51 فیصد تھی۔ 39 فیصد کا خیال ہے کہ اسرائیل غزہ میں حد عبور کرتا جا رہا ہے۔

سروے میں یہ بھی ظاہر ہوا کہ 33 فیصد امریکی سمجھتے ہیں کہ امریکا اسرائیل کو ضرورت سے زیادہ فوجی امداد دے رہا ہے، جبکہ 35 فیصد کے نزدیک غزہ کے شہریوں کے لیے انسانی امداد ناکافی ہے۔ تقریباً 80 فیصد امریکیوں نے فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں، بھوک اور یرغمالیوں کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔

مزید پڑھیں: امریکا اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ویزے کیوں روک رہا ہے؟

آسٹریلیا میں کیے گئے ایک پول کے مطابق 69 فیصد شہری اسرائیل کی غزہ پر فوجی کارروائی ختم کرنے کے حامی ہیں، جن میں سے 53 فیصد نے اس موقف کی ’پوری طرح‘حمایت کی۔ نصف سے زیادہ آسٹریلوی عوام چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت روس پرعائد پابندیوں کی طرح اسرائیل پر بھی سخت اقدامات کرے۔

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 66 فیصد اسرائیلی اب سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کا وقت آ چکا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یرغمالیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: جان ایف کینیڈی کے قتل کی کہانی میں اسرائیل کا نام، مارجری گرین ٹیلر نے نئی بحث چھیڑ دی

فارن پالیسی میگزین کے ایک تجزیے کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے واقعات نے اسرائیل کو بنیادی طور پر بدل کر رکھ دیا، اگرچہ بڑے پیمانے پر تباہی اور بحران کی پیش گوئیاں جزوی طور پر درست ثابت نہیں ہوئیں، لیکن اسرائیل کو اقتصادی سست روی اور سیاسی بےاعتمادی کا سامنا ضرور ہے۔

اسرائیل کی نسل کش جنگ میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران 67 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حماس کے مطابق 7 اکتوبر کا حملہ ’فلسطینی مزاحمت کو مٹانے کی کوششوں کے جواب میں تاریخی کارروائی‘ تھی، اسرائیلی اعدادوشمار کے مطابق اس حملے میں 1,219 افراد مارے گئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ ٹرمپ انتظامیہ جنگی جرائم عدم اطمینان نسل کشی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹرمپ انتظامیہ جنگی جرائم امریکی یہودی فیصد امریکی میں اسرائیل مزید پڑھیں اسرائیل کی کے مطابق سے زیادہ کے خلاف رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان