ریاض میں فائر اینڈ ریسکیو اسپورٹ ورلڈ چیمپئن شپ کا افتتاح 28 اکتوبر کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
سعودی عرب کے شہر ریاض میں فائر اینڈ ریسکیو اسپورٹ ورلڈ چیمپئن شپ کا افتتاح 28 اکتوبر کو ہوگا جس کے مہمان خصوصی سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز ہوں گے۔
یہ عالمی مقابلہ 26 اکتوبر سے یکم نومبر 2025 تک ریاض میں منعقد ہوگا جس کا انعقاد جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس کی جانب سے انٹرنیشنل اسپورٹ فیڈریشن آف فائر فائٹرز اینڈ ریسکیورز کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ورلڈ فائر اینڈ ریسکیو اسپورٹ چیمپیئن شپ کی تیاری، سعودی سول ڈیفنس ٹیم کا تربیتی کیمپ جاری
جنرل ڈائریکٹر سول ڈیفنس، میجر جنرل ڈاکٹر حمود بن سلیمان الفرج نے وزیر داخلہ کی سرپرستی پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ ڈائریکٹوریٹ کے قیام کے سو سال مکمل ہونے کی مناسبت سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کی سرپرستی سعودی عرب کے عالمی کھیلوں کے مرکز کے طور پر بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتی ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
یہ چیمپئن شپ پرنس فیصل بن فہد اسپورٹس سٹی میں منعقد ہوگی، جہاں دنیا بھر کے فائر فائٹرز اور ریسکیو ماہرین اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ اس ایونٹ میں 22 ممالک کے سرکاری وفود اور 300 سے زائد کھلاڑی شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: ریاض میں فائر اینڈ ریسکیو ورلڈ چیمپیئن شپ، 21 ممالک کی شرکت متوقع
مقابلوں میں 4 بنیادی ایونٹس یعنی100 میٹر ہرڈل جمپ ریس، 400 میٹر ریلے ریس، ٹاور چڑھنے کی سیڑھی ریس اور کومبیٹ ریس شامل ہوں گے۔
یہ عالمی ایونٹ فائر فائٹنگ اور ریسکیو کے شعبوں میں پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے، تکنیکی ترقیوں کو اجاگر کرنے اور شہری تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ریاض ریسکیو سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ریاض ریسکیو فائر اینڈ ریسکیو ریاض میں
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔