پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی کے عزم پر مبنی ہیں،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اکتوبر2025ء) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی کے عزم پر مبنی ہیں،پاکستان خطے میں امن و خوشحالی کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔منگل کو سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے آذربائیجان کی سپیکر ملی مجلس صاحبہ غفارووا نے یہاں ملاقات کی ۔
ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔(جاری ہے)
پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی کے عزم پر مبنی ہیں،قلیل مدت میں دونوں ممالک نے مثالی تعلقات قائم کیے جو دنیا کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی رابطے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا مظہر ہیں،آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف کا متوقع دورہ دوطرفہ تعلقات کو نئی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا،دونوں ملکوں کے ادارہ جاتی روابط باقاعدگی سے جاری ہیں جو تعلقات کے استحکام کا ثبوت ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے فروری 2025ء میں باکو میں ہونے والی ایشین پارلیمانی اسمبلی میں شرکت کو خوشگوار تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے درمیان روابط عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کا باعث بنیں گے۔ چیئرمین سینیٹ نے آذربائیجان کی سپیکر کو نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی بین الپارلیمانی اسپیکر کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ۔۔پاکستان آذربائیجان کو ایک اہم سرمایہ کار شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں بہتری کی گنجائش موجود ہے،پاکستان خطے میں امن و خوشحالی کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے،پاکستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی پل کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے،سیاحت کے شعبے میں باہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوں گے۔ چیئرمین سینیٹ نےصدر الہام علیئیف کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان آذربائیجان کی قیادت کے پرتپاک استقبال کا منتظر ہے۔ اس موقع پرآذربائیجان کی سپیکر نے چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کیا۔سپیکر نے دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہارکیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات سید یوسف رضا گیلانی آذربائیجان کی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کے فروغ کے عزم
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔