’ہونٹ نہیں، مشین گن ہیں‘، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس سیکرٹری سے متعلق عجیب بیان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارولین لیوٹ کے ہونٹوں کے بارے میں عجیب و غریب تبصرہ کر کے نئی بحث چھیڑ دی۔
یہ واقعہ امریکی صدر کے جہاز ایئر فورس ون پر اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ اسرائیل اور مصر کے دورے کے بعد واپسی پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اچانک موضوع بدل کر اپنی 28 سالہ ترجمان کے بارے میں کہا کہ کارولین کیسی کر رہی ہے؟ کیا اسے تبدیل کیا جانا چاہیے؟
یہ بھی پڑھیے: تصویر میں بال درست نہ ہونے پر صدر ٹرمپ ٹائم میگزین پر برس پڑے
ایک رپورٹر نے جواب دیا کہ یہ فیصلہ آپ کا ہے۔ اس پر ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ کبھی نہیں ہوگا۔ وہ چہرہ اور وہ ہونٹ، وہ ایسے حرکت کرتے ہیں جیسے مشین گن۔
کارولین لیوٹ، جو اسی وقت طیارے میں موجود تھیں، نے ایکس پر صدر کے پریس سیشن کی تصویر شیئر کرکے ٹرمپ کو سب سے زیادہ محنتی صدر قرار دیتے ہوئے لکھا کہ وہ رات 12:45 بجے ایئر فورس ون پر، 36 گھنٹے کے دورے کے بعد بھی صدر صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے کارولین کی تعریف اس انداز میں کی ہو۔ اگست میں نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک اسٹار بن گئی ہے۔ وہ چہرہ، وہ ذہن، وہ ہونٹ، وہ ہلتے ہیں جیسے مشین گن۔ ٹرمپ نے کارولین کو شاندار اور بہترین انسان قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی اطالوی وزیراعظم سے فلرٹ کی کوششیں، میلونی نے زبردستی ہاتھ چھڑا لیا، ویڈیوز وائرل
صدر ٹرمپ ماضی میں بھی اپنی خاتون ساتھیوں کے ظاہری خدوخال پر تبصرے کرنے کے باعث تنقید کا شکار رہ چکے ہیں۔ ایک کابینہ اجلاس کے دوران انہوں نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کے بارے میں کہا تھا کہ میں کبھی نہیں کہوں گا کہ وہ خوبصورت ہیں، ورنہ میری سیاسی زندگی ختم ہو جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔