وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (شاہ خالد) وائٹ ہاؤس فائرنگ کا واقعہ سیاسی تنازعہ بن گیا، افغان ملزم رحمان اللہ لکنوال کو ٹرمپ دور میں سیاسی پناہ دی گئی جبکہ امریکی صدر نے واقعہ کی وجہ بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسی کو قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین امریکا آکر مشکلات پیدا کرتے ہیں انہوں نے پناہ گزینوں کے مقدمات کا وسیع پیمانے پر ازسر نو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق ملزم کو رواں سال سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ہی پناہ دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد ایف بی آئی نے مشتبہ افغان ملزم 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے واشنگٹن اسٹیٹ میں گھر کی تلاشی لی اور اس کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات تحویل میں لے لیے۔،
رپورٹ کے مطابق افغان ملزم سال 2021 میں امریکہ میں سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت آیا تھا اور اس سے قبل افغانستان میں سی آئی اے کی معاون یونٹ کا حصہ تھا۔
29سالہ رحمان اللہ لکنوال 8 ستمبر 2021 کو آپریشن ایلیز ویلکم کے تحت امریکہ میں داخل ہوا۔ یہ منصوبہ سابق ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل حکومت کے سقوط کے بعد شروع کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
گزشتہ روز ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی اٹارنی جینین پیرو، جو دونوں ٹرمپ کے مقرر کردہ عہدیدار ہیں، نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ اس وقت کی بائیڈن انتظامیہ نے لکنوال کے پس منظر کی جانچ پڑتال نہیں کی تھی، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق لکنوال نے دسمبر 2024 میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی، جسے 23 اپریل 2025 کو منظور کیا گیا یعنی ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے تین ماہ بعد۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ ملزم کے خلاف کسی مجرمانہ سابقہ ریکارڈ کا اندراج نہیں ہے اور اسے افغانستان میں امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کے باعث پہلے ہی اعلیٰ سطح کی جانچ پڑتال سے گزارا جا چکا تھا۔
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹ کلف نے تصدیق کی کہ ملزم قندھار میں سی آئی اے کی معاون افواج کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ابیگیل جیکسن نے کہا ہے کہ یہ شخص بائیڈن کی خطرناک پالیسیوں کی وجہ سے یہاں تک پہنچا، جنہوں نے ہزاروں افراد کو کسی جانچ پڑتال کے بغیر ہی امریکہ آنے دیا۔
واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں مزید 500 فوجی اہلکار تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے لکنوال کو درندہ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی کا واقعہ کہا۔
علاوہ ازیں ٹرمپ انتظامیہ نے تمام افغانیوں کی جانب سے دی گئی امیگریشن اور سیاسی پناہ درخواستیں معطل کردی ہیں اور بائیڈن دور میں امریکہ آنے والے افغان شہریوں کی مکمل ازسرنو جانچ کا عندیہ دیا ہے، جس میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ماضی میں سی آئی اے کے ساتھ کام کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند وفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ اڈیالہ جیل کے اطراف امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ، 5 اضافی پکٹس قائم تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت، چین کی شہریوں کو سرحدی علاقے سے فوری انخلاکی ہدایتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغان ملزم سیاسی پناہ وائٹ ہاؤس
پڑھیں:
وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ، صدر ٹرمپ نے بڑا حکم جاری کردیا
وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ، صدر ٹرمپ نے بڑا حکم جاری کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 27 November, 2025 سب نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی حملہ کے تناظر میں حکم جاری کیا ہے کہ واشنگٹن میں 500 اضافی نیشنل گارڈز تعینات کئے جائیں گے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ دو نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں 500 اضافی اہلکار تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ اہلکاروں پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، جلد اضافی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ اضافی تعیناتی کا مقصد دارالحکومت میں سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور حکومت میں افغانستان سے آنے والے ہر شخص کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کے باہر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں کہا کہ بائیڈن دور میں 2 کروڑ سے زائد غیر ملکی تارکین وطن امریکا آئے، جن کی کسی بھی حوالے سے جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔
انھوں نے کہا یہ غیر ملکی تارکین وطن ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، کوئی بھی ملک اس طرح کی سیکیورٹی رسک کو برداشت نہیں کرے گا، ہم بائیڈن دور میں افغانستان سے آنے والے ہر شخص کی جانچ پڑتال کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکا کے نیشنل گارڈ کے 2 فوجیوں کو قومی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے ایک بلاک پر گولی مار دی گئی ہے اور ان کی حالت تشویش ناک ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے واقعے کو ’قومی سلامتی کا معاملہ‘ قرار دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں اس حملے کو ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا اور کہا کہ مجرم افغانستان سے ہمارے ملک میں داخل ہوا اور اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز نے اعلان کیا ہے کہ فائرنگ کے بعد افغان شہریوں سے متعلق تمام امیگریشن درخواستوں پر کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی نور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی وفاقی آئینی عدالت کا گندم کوٹہ سے متعلق کیس میں اہم حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: مشرف رسول تنازعہ کیس میں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن طلب جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس سماعت کے لئے مقرر بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا آج ہونے والا جیل ٹرائل منسوخ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے افواہیں بے بنیاد ہیں: جیل حکامCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم