’میری تصویر نے میرے بال غائب کر دیے‘، ٹرمپ ٹائم میگزین پر برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف جریدے ٹائم میگزین پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ میگزین نے مشرقِ وسطیٰ میں اُن کی امن کوششوں پر ’نسبتاً اچھی رپورٹ‘ شائع کی، مگر تصویر نے اُن کے بال ’غائب‘ کر دیے۔
ٹرمپ نے منگل کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ ٹائم میگزین نے میرے بارے میں نسبتاً اچھی خبر لکھی، لیکن تصویر شاید ’تاریخ کی بدترین‘ ہو۔ اُنھوں نے میرے بال غائب کر دیے اور سر پر ایک چھوٹا سا ’تاج‘ سا تیرتا دکھا دیا، جو بہت عجیب ہے۔
العربیہ نیوز رپورٹ کے مطابق یہ تصویر نیچے کے زاویے سے لی گئی ہے، جس میں ٹرمپ کی گردن کی جھلک اور پشت سے روشنی پڑتے بال نمایاں ہیں۔ ٹائم میگزین نے یہ تصویر پیر کے روز پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے ہمیشہ نچلے زاویے سے تصویریں لینا پسند نہیں رہا، مگر یہ تصویر تو انتہائی خراب ہے، اور اسے سامنے لانا ضروری تھا۔ وہ آخر کر کیا رہے ہیں؟
یاد رہے کہ ٹائم میگزین نے 10 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو ٹرمپ کے لیے سیاسی بحالی کی ایک کوشش قرار دیا تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی۔
ٹرمپ ماضی میں بھی ٹائم میگزین کی اپنی خبروں اور تصویروں پر گہری نظر رکھتے آئے ہیں۔ جریدہ انہیں 2016 اور 2024 میں پرسن آف دی ایئر (Person of the Year) قرار دے چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹائم میگزین میگزین نے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔