اسکرین ٹائم: بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر اثرات
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-03-2
نت نئی برقی ایجادات بالخصوص ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسمارٹ ڈیوائسز نے جہاں ایک جانب زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں دوسری جانب ان آلات کے بے جا استعمال نے ذہنی، جسمانی، اعصابی، سماجی اور نفسیاتی مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی ابتدائی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ مطالعے سے پتا چلا ہے کہ جن بچوں نے روزانہ زیادہ وقت اسمارٹ فون، ٹیبلٹ یا ٹی وی اسکرین پر گزارا، ان کی ریاضی اور مطالعے کی کارکردگی دیگر بچوں کے مقابلے میں کم تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین کے استعمال سے بچوں کی توجہ کی صلاحیت، نیند کے معمولات اور ذہنی ارتکاز متاثر ہوتے ہیں، جس کا اثر براہِ راست سیکھنے کی رفتار پر پڑتا ہے۔ طبی ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ بچوں میں توجہ کی کمی اور روزمرہ کی سرگرمیوں سے دوری دماغی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔ ڈیجیٹل آلات تعلیم کو بہتر بنانے کا باعث بن سکتے ہیں مگر کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال مضمرات کا باعث بنتا ہے یقینا یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو تشویش کا باعث ہے، جدید ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے، ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیجیٹل آلات کے استعمال کی حد مقرر کی جائے، اس کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے، اور بچوں کی اچھی ذہنی صحت کے لیے انہیں جسمانی سرگرمیوں میں مشغول کیا جائے تاکہ بچوں کی دماغی صلاحیت متاثر نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔