دل کا خیال کیسے رکھا جائے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں امراض قلب انسانی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ خواتین، مردوں اور خاص طور پر بچوں کے دل اور دورانِ خون کے نظام کو صحت مند کیسے رکھا جا سکتا ہے؟کاہلی، زیادہ وزن اور تمباکو نوشی سب سے اہم قابلِ کنٹرول خطرے کے عوامل ہیں۔ عمر بڑھنا بھی ایک عنصر ہے، جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اس لیے باقاعدہ حفاظتی معائنہ بہت ضروری ہے تاکہ ہائی بلڈ پریشر، لیپڈ میٹابولزم کی خرابی یا ذیابیطس کا بروقت پتا لگایا اور علاج کیا جا سکے۔ ہائی بلڈ پریشر سب سے اہم خطرے کا باعث ہے لیکن اس کا علاج ممکن ہے۔ 35 سال کی عمر سے لوگ حفاظتی معائنوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بچوں کو متحرک رہنا چاہیے۔ بہت سے بچے موبائل یا کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزارتے ہیں اور تازہ ہوا میں کم نکلتے ہیں۔ انسان کا جسم دراصل سارا دن حرکت کرنے اور خوراک کی تلاش کے لیے بنا ہے۔ لیکن آج کل خوراک بہت آسانی سےدستیاب ہے، جس کی وجہ سے بچوں اور نوعمروں میں موٹاپے کی وبا پھیل رہی ہے۔ پروسیسڈ فوڈز، جیسے کہ فریز کی ہوئی پیزا یا فاسٹ فوڈ بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں کیونکہ ان میں نمک، چکنائی اور چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر بچے اس طرح کی خوراک کے عادی ہو جائیں تو انہیں پھل یا سبزیاں پسند نہیں آتیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو کم عمری سے ہی صحت مند غذا کھانے کی عادت ڈالیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔