وفاقی حکومت کا وفد صدر زرداری سے ملنے نوابشاہ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
—فائل فوٹوز
پنجاب حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کا وفد صدر آصف علی زرداری سے ملنے نوابشاہ روانہ ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کا وفد خصوصی طیارے میں اسلام آباد سے روانہ ہوا۔
صدر آصف علی زرداری سے اسحاق ڈار اور ایاز صادق کی ملاقات ہو گی، اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوں گے۔
حکومتی وفد صدر آصف علی زرداری کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچائے گا۔
مسلم لیگ ن کےذرائع کے مطابق اس اہم ملاقات کے بعد سندھ اور پنجاب حکومت کے درمیان لفظی گولہ باری بند ہو جائے گی۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اہم سیاسی فیصلوں کے لیے 18 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کا سی ای سی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔