اوساکا ایکسپو 2025 میں پاکستانی پویلین کی دھوم، دو ایوارڈز جیت لیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
اوساکا ایکسپو جاپان 2025 میں پاکستان نے 2 بین الاقوامی ایوارڈز جیت کر عالمی پذیرائی حاصل کرلی۔
پاکستانی پویلین کو بیورو انٹرنیشنل ایکسپوزیشن برانز ایوارڈ اور ایگزیبیٹر آن لائن ایڈیٹرز چوائس ایوارڈ ملے۔ پاکستانی پویلین کی جدت، ہنر اور ثقافت کو عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔
پنک سالٹ سے متاثر تخلیقی تھیم ’’ایک ذرۂ نمک میں پوری کائنات‘‘ پر پاکستانی پویلین کو ایڈیٹرز چوائس ایوارڈ ملا، 53 مربع میٹر کے محدود رقبے پر قائم شاہکار پاکستانی پویلین شرکاء کی توجہ کا خاص مرکز رہا۔
پاکستانی پولین کو محض 6 ماہ میں اب تک 17 لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔
پاکستانی سفیر اور پویلین کے چیف کمشنر عبد الحمید نے اس موقع پر کہا کہ ’’محدود جگہ اور وسائل کے باوجود پاکستان پویلین نے 2 بین الاقوامی ایوارڈز اپنے نام کیے۔‘‘
پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس کے عوام کے لیے یہ لمحہ باعثِ فخر ہے، یہ کامیابی پوری ٹیم کی دن رات محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے، پاکستان کی اس کامیابی میں وفاقی حکومت کی مکمل سرپرستی شامل رہی۔
تخلیقی وژن، قومی جذبے اور مضبوط ٹیم ورک کی بدولت پاکستان نے ایکسپو 2025 میں عالمی سطح پر ممتاز مقام حاصل کیا۔ ایکسپو 2025 کی کامیابی نے پاکستان کی پہچان کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی پویلین
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔