Express News:
2025-11-29@12:15:24 GMT

ججز میں جھڑپیں عدلیہ کی اتھارٹی کو مزید کمزور کر سکتی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

اسلام آباد:

سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان کھلی عدالت میں جھڑپیں 26ویں  ترمیم کے منظور ہونے کے بعد بڑھ گئی ہیں جو اعلیٰ عدلیہ کی اتھارٹی کو مزید کمزور کر سکتی ہیں۔

گزشتہ روز 26 ویں ترمیم کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عائشہ ملک کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور دونوں ججز نے سپریم کورٹ رولز  کی منظوری پر ایک دوسرے کے موقف سے اختلاف کیا۔

جسٹس عائشہ ملک ان 4ججز میں شامل ہیں جنھوں نے نئے رولز کی  سرکولیشن کے ذریعے منظوری پر اعتراض اٹھایا تھا۔2009 میں عدلیہ کی بحالی کے بعد سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی قیادت میں ججوں میں مکمل اتحاد تھا۔

اسی وجہ سے اس دور میں اعلیٰ عدلیہ ملک کا سب سے طاقتور ادارہ بن کر ابھری۔ عوامی سطح پر ان جھڑپوں کا سلسلہ ثاقب نثار کے دور سے شروع ہوا جو گلزار احمد اور عمر عطا بندیال کے ادوار میں بھی جاری رہا۔

فائز عیسیٰ کے دور میں یہ شدت اختیار کر گیا جس کا فائدہ ایگزیکٹو نے اٹھایا۔ سینئر وکلا نے موجودہ   صورتحال کے لیے چیف جسٹس  یحییٰ آفریدی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اگر 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں بروقت مقرر کی جاتیں تو آج صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔

اسی طرح رولز کی منظوری کے لیے بھی وہ فل کورٹ  اجلاس طلب کر سکتے تھے۔  

سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے کہا 26 ویں  ترمیم کے بعد  سپریم کورٹ کے اندر دو دھڑے بن گئے، ایک ایگزیکٹو کے غلبے کا مخالف جبکہ دوسرا اس کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔ ان حالات میں ادارے کے اندر تنازع فطری ہے۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ترمیم کے

پڑھیں:

زیر حراست ملزمان پر پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

زیر حراست ملزمان پر پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ  جاری کردیا۔

عدالت عظمیٰ نے پولیس کی زیر حراست ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک، جن میں ذاتی وقار کی پامالی شامل ہو، کسی بھی صورتِ حال میں جائز نہیں۔

7 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا۔ عدالت نے کہا کہ بعض اوقات پولیس کی جانب سے تشدد ماورائے عدالت قتل کا باعث بنتا ہے کیونکہ وہ عملی طور پر استثنا کے مفروضے کے تحت مبینہ مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اس عمل کو روکنے کے لیے پولیس فورس پر مؤثر، خصوصی اور بیرونی نگرانی ناگزیر ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ زندگی کے حق کو سب سے اعلیٰ انسانی حق قرار دیا گیا ہے اور آئین ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ ہر شہری کے حقِ زندگی کا تحفظ کرے اور حراستی تشدد اور قتل کو روکے۔ غیر قانونی حراست، گرفتاری، بربریت، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف یہ آئینی ضمانتیں بنیادی اور قانونی اصولوں کی اساس ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ غیر قانونی حراست اور تشدد کسی بھی صورت میں نہ تو پسندیدہ ہیں اور نہ ہی قابلِ جواز۔ عدالت نے کہا کہ بنیادی حقوق کا اصول ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرے کو یقینی بنانا ہے۔ پولیس فورس قانون کی محافظ ہے جو آئین میں درج بنیادی حقوق کے فریم ورک کو برقرار رکھنے کی پابند ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور جب کوئی سرکاری اہلکار قانون پر عمل کیے بغیر کسی شخص کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس سے نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ شفاف ٹرائل کے حق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے لیکن گرفتاری آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ آئینی و قانونی تقاضوں کے برخلاف گرفتاری، غیر انسانی رویہ اپنانا، ظلم یا تشدد کرنا نہ صرف مجرمانہ فعل ہے بلکہ مس کنڈکٹ میں بھی شمار ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق درخواست گزاران پنجاب پولیس کے ایک منظم ادارے کے اہلکار تھے جن کی ملازمت کی شرائط متعلقہ پولیس قوانین اور 1975 کے قواعد کے تحت ہیں۔ موجودہ کیس میں زریاب خان کی غیر قانونی حراست، بدسلوکی اور تشدد کے الزامات درخواست گزاران کے خلاف بطور پولیس اہلکار لگائے گئے تھے۔

عدالت نے کہا کہ زریاب خان کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے اور اسے تشدد کا نشانہ بنانے کے ذریعے درخواست گزاران نے اپنے فرض کی خلاف ورزی کی اور ان کا یہ عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پولیس اہلکاروں کو نوکری سے نکالنے کی محکمانہ کارروائیاں قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں، لہٰذا عدالت نے سزائیں برقرار رکھتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرٹیکل کسی شخص کی گرفتاری اور حراست کے حوالے سے حفاظتی ضمانتیں فراہم کرتا ہے اور کوئی بھی گرفتار شخص اس وقت تک حراست میں نہیں رکھا جا سکتا جب تک کہ اسے اس کی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ نہ کر دیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے آئین کے آرٹیکل 14 کا بھی حوالہ دیا، جس کے مطابق انسان کی عزتِ نفس اور قانون کے تابع گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں ہوسکتی۔

عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے 3 پولیس کانسٹیبلوں کی اپیلوں پر جاری کیا، جن پر زریاب خان نامی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے اور اسے قتل کرنے کا الزام تھا۔ نوکری سے برخاست کیے جانے کے فیصلے کیخلاف درخواست گزاروں نے پنجاب سروس ٹربیونل سے رجوع کیا، جہاں ان کی برطرفی کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔  اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔

اس اہم کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ
  • سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری
  • زیر حراست ملزمان پر پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
  • 90 دن کی مدت پوری کیے بغیر طلاق نافذ نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ
  • طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے: سپریم کورٹ
  • طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ
  • سپریم کورٹ: موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
  • لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تحت 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے
  • دہلی اور اسکے اطراف میں بدترین فضائی آلودگی، معاملہ پر غور کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی
  • نور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی