ججز میں جھڑپیں عدلیہ کی اتھارٹی کو مزید کمزور کر سکتی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان کھلی عدالت میں جھڑپیں 26ویں ترمیم کے منظور ہونے کے بعد بڑھ گئی ہیں جو اعلیٰ عدلیہ کی اتھارٹی کو مزید کمزور کر سکتی ہیں۔
گزشتہ روز 26 ویں ترمیم کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عائشہ ملک کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور دونوں ججز نے سپریم کورٹ رولز کی منظوری پر ایک دوسرے کے موقف سے اختلاف کیا۔
جسٹس عائشہ ملک ان 4ججز میں شامل ہیں جنھوں نے نئے رولز کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری پر اعتراض اٹھایا تھا۔2009 میں عدلیہ کی بحالی کے بعد سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی قیادت میں ججوں میں مکمل اتحاد تھا۔
اسی وجہ سے اس دور میں اعلیٰ عدلیہ ملک کا سب سے طاقتور ادارہ بن کر ابھری۔ عوامی سطح پر ان جھڑپوں کا سلسلہ ثاقب نثار کے دور سے شروع ہوا جو گلزار احمد اور عمر عطا بندیال کے ادوار میں بھی جاری رہا۔
فائز عیسیٰ کے دور میں یہ شدت اختیار کر گیا جس کا فائدہ ایگزیکٹو نے اٹھایا۔ سینئر وکلا نے موجودہ صورتحال کے لیے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اگر 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستیں بروقت مقرر کی جاتیں تو آج صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔
اسی طرح رولز کی منظوری کے لیے بھی وہ فل کورٹ اجلاس طلب کر سکتے تھے۔
سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے کہا 26 ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے اندر دو دھڑے بن گئے، ایک ایگزیکٹو کے غلبے کا مخالف جبکہ دوسرا اس کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔ ان حالات میں ادارے کے اندر تنازع فطری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترمیم کے
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :