وزیراعلیٰ کے استعفے کی منظوری کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا؟ گورنر خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے استعفے اور نئے وزیراعلیٰ کی حلف برداری کے معاملے پر گورنر کے پی نے اپنا جواب پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرانے کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھیج دیا۔
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے استعفے کی منظوری کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا؟ جب وزیراعلیٰ کا عہدہ خالی ہی نہیں ہوا تو دوسرا وزیراعلیٰ کیسے منتخب ہو سکتا ہے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں گورنر کے پی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت استعفیٰ وصول کرنے والے کو دیکھنا ہوتا ہے کہ استعفیٰ اصلی ہے کہ نہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے پوچھا کہ گورنر نے رضامندی ظاہر کی ہے حلف برداری کے لیے یا نہیں؟
انہوں نے کہا کہ پھر یہ بھی چیک کرنا ہوتا ہے کہ استعفیٰ کسی دباؤ کے تحت تو نہیں دیا گیا، اگر ایسا کیا گیا تو یہ جمہوریت کے یئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت استعفیٰ منظور ہوگا اور نئے وزیراعلیٰ سے حلف بھی لیں گے۔
واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے لیے گورنر کی دستیابی معلوم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔