گنڈاپور کے استعفے کی منظوری میں آئین کی مکمل پاسداری کروں گا‘ کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251013-08-8
پشاور(مانیٹر نگ ڈ یسک ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کی منظوری میں آئین و قانون کی مکمل پاسداری کروں گا۔پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی وفد نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اسلام آباد میں ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی، وفد میں ارکان قومی اسمبلی اسد قیصر، عاطف خان، علی اصغر خان جدون، جنید اکبر اور ڈاکٹر امجد خان شامل تھے جب کہ پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا بھی شریک تھے۔تحریک انصاف کے پارلیمانی وفد نے گورنر خیبرپختونخوا سے صوبے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخابات سے متعلق گفتگو کی،وفد نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ جمہوری روایات کی پاسداری کی ہے، وزیراعلیٰ کے انتخابات میں بھی آپ سے تعاون درکار ہے۔اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کی منظوری میں آئین و قانون کی مکمل پاسداری کروں گا۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے ساتھ صوبے کی ترقی کے لیے آگے بڑھا جا سکتا ہے، صوبے میں پائیدار امن اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے مل کر کردار ادا کرنا ہوگا، پیپلزپارٹی جمہوری روایات اور جمہوریت کی مضبوطی کی علمبردار جماعت ہے۔واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کل ہونا ہے، تاہم گورنر نے ابھی تک علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور گنڈاپور کے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔