پاک ایران قربتوں میں اچانک تیزی اور مستقبل کیلئے امکانات و مواقع
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ایرانی تجزیہ کار رضائی نژاد نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ایران پر حالیہ صہیونی حملے نے پاکستان کو یہ احساس دلایا ہے کہ اسرائیل خطے میں کسی حد کا پابند نہیں، یہ بات پاکستان کے لیے، جو واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، ایک وارننگ تھی۔ اسی وجہ سے پاکستان لازمی طور پر ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا اور ایران بھی اسے ایک ترقی پاتے رجحان کے طور پر دیکھتا ہے۔ تجزیہ: سعیده سادات فهری
پاکستان کے لیے ایرانی حکام کے پے در پے سفارتی دوروں کی شدت کے تناظر میں ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا مشن اسلام آباد اس کی آخری کڑی ہے، جبکہ ایران، خاص طور پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کے پس منظر میں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ پر زور دے رہا ہے، پاکستان اس پالیسی کا مرکزی محور بن کر سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق پاکستان ان اہم ممالک میں سے ہے، جنہوں نے 12 روزہ جنگ میں ایران کا ساتھ دیا، اسی لیے اسلامی جمہوریہ کی سیاسی اور تجارتی ترجیحات میں اسے خاص مقام حاصل ہے۔ اسی سلسلے میں ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے ایک ٹویٹ میں پاکستان کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کا دوست اور برادر ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی یہ نہیں بھولیں گے کہ جب امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ شروع کی تو پاکستانی عوام ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے تھے۔ لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان خطے میں پائیدار سلامتی کے دو اہم اور اثرورسوخ والے ممالک ہیں اور ہم ہمیشہ علاقائی ممالک کے برادرانہ تعلقات کی قدر کرتے ہیں۔ پاکستان کے سفیر نے بھی اس دورے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفر دونوں ممالک کی اعلیٰ سطح کی قیادت کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ کے لیے جاری وسیع روابط کا حصہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لاریجانی کا دورہ ایران اور پاکستان کے تاریخی و گہرے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
12 روزہ جنگ کے بعد یعنی چند ماہ میں پاکستان کیساتھ ایرانی سفارتی روابط میں اضافہ:
گذشتہ چند ماہ کے دوران، 12 روزہ جنگ کے بعد، ایران اور پاکستان کے درمیان ٹیلی فونک رابطوں اور اعلیٰ سطحی دوروں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ محمد باقر قالیباف ایک پارلیمانی وفد کی قیادت میں اپنے پاکستانی ہم منصب ایاز صادق کی دعوت پر پاکستان روانہ ہوئے۔ اس دورے کے مقاصد میں پارلیمانی تعلقات کو مضبوط بنانا اور تہران اسلام آباد کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی روابط کی ترقی کو آسان بنانا شامل تھا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دونوں ہمسایہ اور مسلمان ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہر شعبے میں تعلقات کے فروغ کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔ تازہ ترین ملاقاتوں میں سے ایک کے تحت، ایران کے نائب وزیرِ خارجہ (سیاسی)، مجید تخت روانچی، اسلام آباد پہنچے۔ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کے مطابق، تخت روانچی ایران پاکستان سیاسی مشاورت (BPC) کے 13ویں دور میں شرکت کے لیے پاکستان گئے۔
ایران کی طرف ثالثی کا کردار:
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے تناؤ کے پس منظر میں، ایران کی ثالثی کی کوششیں بھی دوطرفہ رابطوں میں اضافے کی ایک اہم جہت ہیں۔ اپنے حالیہ ٹیلی فونک رابطے میں، عراقچی نے پاکستان میں اپنے ہم منصب سے علاقائی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رہنی چاہیئے اور علاقائی مؤثر ممالک کے تعاون سے اختلافات اور تناؤ کو کم کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایران کی ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی آمادگی کا اعلان کیا۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے افغانستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے علاقائی امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے اس معاملے پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ علاقائی امن اور استحکام ہمارے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے آغاز سے ہی ہم نے اس مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور روس، قطر سمیت دیگر ممالک سے بات چیت کی ہے، ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، تاکہ معاملے کو علاقائی فریم ورک کے اندر حل کیا جا سکے۔ پاکستان نے بھی ایران کی ان کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ مجید تخت روانچی کے دورۂ پاکستان کے موقع پر، حکومتِ پاکستان نے سید عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان باقی ماندہ اختلافات کے حل میں ہر قسم کی مدد کی ایرانی پیشکش کا استقبال کیا۔
ایران اور پاکستان کی قربت کا راز:
یہ سوال اہم ہے کہ دونوں ممالک تعاؤن بڑھا کر کن مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عسکری، سیاسی اور اقتصادی اہداف میں سے کون سا ان کے لیے زیادہ ترجیح رکھتا ہے۔؟ اس بارے میں برصغیر کے امور کے ماہر ایرانی تجزیہ کار امین رضائی نژاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ قربت کا معاملہ اقتصادی سے زیادہ سیاسی و سکیورٹی ایشوز کی نوعیت کا ہے۔ ایران کئی سالوں سے پاکستان سے قربت چاہتا چلا آیا ہے، چاہے وہ گیس پائپ لائن ہو یا دیگر منصوبے ہوں، لیکن آج کے حالات میں پاکستان خود ایران کے قریب آنے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی کا سبب عالمی سطح پر بننے والے نئے اتحادوں کو قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان، چین کے سکیورٹی و اقتصادی بلاک کا حصہ ہے، جبکہ ایران بھی مغرب کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور برجام کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث چین کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسی لیے پاکستان بھی ایران کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
اقتصادی امکانات اور حدود:
رضائی نژاد کا کہنا تھا کہ بعض اقتصادی معاملات میں ایران اور پاکستان دراصل ایک دوسرے کے حریف ہیں، خصوصاً بندرگاہوں اور راہداریوں کے شعبے میں، تاہم توانائی کے میدان میں ایران کی بڑی صلاحیت موجود ہے اور چین چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا کچھ حصہ ایران سے پورا کرے۔ خاص طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبوں جیسے پمپ اسٹیشنز، ریفائنریوں اور بجلی گھروں کے لیے، چین چاہتا رہا ہے کہ پاکستان یہ توانائی ایران سے حاصل کرے۔
رکاوٹیں کیا ہیں؟
ایرانی تجزیہ کار کے مطابق، سب سے بڑی ممکنہ رکاوٹ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تجرباتی مرحلہ ہے۔ پاکستان ایک ساتھ چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، یعنی ایک ایسا آزادانہ توازن بنانا چاہتا ہے، جو کسی ایک بلاک پر مکمل انحصار نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کیا وہ بیک وقت مشرقی اور مغربی دونوں بلاکس سے تعاون کرسکتا ہے۔ اگر پاکستان اس آزمائش میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ ایران پاکستان تعلقات کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے اور اگر ناکام ہوا تو رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔
سکیورٹی کے میدان میں خطے کا مستقبل:
ایرانی تجزیہ کار رضائی نژاد نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ایران پر حالیہ صہیونی حملے نے پاکستان کو یہ احساس دلایا ہے کہ اسرائیل خطے میں کسی حد کا پابند نہیں، یہ بات پاکستان کے لیے، جو واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، ایک وارننگ تھی۔ اسی وجہ سے پاکستان لازمی طور پر ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا اور ایران بھی اسے ایک ترقی پاتے رجحان کے طور پر دیکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران اور پاکستان ایرانی تجزیہ کار ایران کے ساتھ پاکستان کی کہ پاکستان نے پاکستان سے پاکستان پاکستان کے کی کوشش کر میں ایران تعلقات کو کے درمیان ان کے لیے ایران کی ممالک کے کہ ایران کے مطابق انہوں نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم