اسلام ٹائمز: ایرانی تجزیہ کار رضائی‌ نژاد نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ایران پر حالیہ صہیونی حملے نے پاکستان کو یہ احساس دلایا ہے کہ اسرائیل خطے میں کسی حد کا پابند نہیں، یہ بات پاکستان کے لیے، جو واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، ایک وارننگ تھی۔ اسی وجہ سے پاکستان لازمی طور پر ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا اور ایران بھی اسے ایک ترقی پاتے رجحان کے طور پر دیکھتا ہے۔ تجزیہ: سعیده‌ سادات فهری

پاکستان کے لیے ایرانی حکام کے پے در پے سفارتی دوروں کی شدت کے تناظر میں ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا مشن اسلام آباد اس کی آخری کڑی ہے، جبکہ ایران، خاص طور پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی کے پس منظر میں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ پر زور دے رہا ہے، پاکستان اس پالیسی کا مرکزی محور بن کر سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق پاکستان ان اہم ممالک میں سے ہے، جنہوں نے 12 روزہ جنگ میں ایران کا ساتھ دیا، اسی لیے اسلامی جمہوریہ کی سیاسی اور تجارتی ترجیحات میں اسے خاص مقام حاصل ہے۔ اسی سلسلے میں ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے ایک ٹویٹ میں پاکستان کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کا دوست اور برادر ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی یہ نہیں بھولیں گے کہ جب امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ شروع کی تو پاکستانی عوام ایرانی قوم کے ساتھ کھڑے تھے۔ لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان خطے میں پائیدار سلامتی کے دو اہم اور اثرورسوخ والے ممالک ہیں اور ہم ہمیشہ علاقائی ممالک کے برادرانہ تعلقات کی قدر کرتے ہیں۔ پاکستان کے سفیر نے بھی اس دورے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفر دونوں ممالک کی اعلیٰ سطح کی قیادت کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ کے لیے جاری وسیع روابط کا حصہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لاریجانی کا دورہ ایران اور پاکستان کے تاریخی و گہرے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

12 روزہ جنگ کے بعد یعنی چند ماہ میں پاکستان کیساتھ ایرانی سفارتی روابط میں اضافہ:
گذشتہ چند ماہ کے دوران، 12 روزہ جنگ کے بعد، ایران اور پاکستان کے درمیان ٹیلی فونک رابطوں اور اعلیٰ سطحی دوروں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ محمد باقر قالیباف ایک پارلیمانی وفد کی قیادت میں اپنے پاکستانی ہم منصب ایاز صادق کی دعوت پر پاکستان روانہ ہوئے۔ اس دورے کے مقاصد میں پارلیمانی تعلقات کو مضبوط بنانا اور تہران اسلام آباد کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی روابط کی ترقی کو آسان بنانا شامل تھا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے دونوں ہمسایہ اور مسلمان ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہر شعبے میں تعلقات کے فروغ کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔ تازہ ترین ملاقاتوں میں سے ایک کے تحت، ایران کے نائب وزیرِ خارجہ (سیاسی)، مجید تخت‌ روانچی، اسلام آباد پہنچے۔ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کے مطابق، تخت‌ روانچی ایران پاکستان سیاسی مشاورت (BPC) کے 13ویں دور میں شرکت کے لیے پاکستان گئے۔

ایران کی طرف ثالثی کا کردار:
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے تناؤ کے پس منظر میں، ایران کی ثالثی کی کوششیں بھی دوطرفہ رابطوں میں اضافے کی ایک اہم جہت ہیں۔ اپنے حالیہ ٹیلی فونک رابطے میں، عراقچی نے پاکستان میں اپنے ہم منصب سے علاقائی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رہنی چاہیئے اور علاقائی مؤثر ممالک کے تعاون سے اختلافات اور تناؤ کو کم کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایران کی ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی آمادگی کا اعلان کیا۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے افغانستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے علاقائی امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے اس معاملے پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ علاقائی امن اور استحکام ہمارے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے آغاز سے ہی ہم نے اس مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور روس، قطر سمیت دیگر ممالک سے بات چیت کی ہے، ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، تاکہ معاملے کو علاقائی فریم ورک کے اندر حل کیا جا سکے۔ پاکستان نے بھی ایران کی ان کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ مجید تخت‌ روانچی کے دورۂ پاکستان کے موقع پر، حکومتِ پاکستان نے سید عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان باقی ماندہ اختلافات کے حل میں ہر قسم کی مدد کی ایرانی پیشکش کا استقبال کیا۔

ایران اور پاکستان کی قربت کا راز:
یہ سوال اہم ہے کہ دونوں ممالک تعاؤن بڑھا کر کن مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عسکری، سیاسی اور اقتصادی اہداف میں سے کون سا ان کے لیے زیادہ ترجیح رکھتا ہے۔؟ اس بارے میں برصغیر کے امور کے ماہر ایرانی تجزیہ کار امین رضائی‌ نژاد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ قربت کا معاملہ اقتصادی سے زیادہ سیاسی و سکیورٹی ایشوز کی نوعیت کا ہے۔ ایران کئی سالوں سے پاکستان سے قربت چاہتا چلا آیا ہے، چاہے وہ گیس پائپ لائن ہو یا دیگر منصوبے ہوں، لیکن آج کے حالات میں پاکستان خود ایران کے قریب آنے میں دلچسپی لے رہا ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی کا سبب عالمی سطح پر بننے والے نئے اتحادوں کو قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان، چین کے سکیورٹی و اقتصادی بلاک کا حصہ ہے، جبکہ ایران بھی مغرب کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور برجام کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث چین کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اسی لیے پاکستان بھی ایران کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

اقتصادی امکانات اور حدود:
رضائی‌ نژاد کا کہنا تھا کہ بعض اقتصادی معاملات میں ایران اور پاکستان دراصل ایک دوسرے کے حریف ہیں، خصوصاً بندرگاہوں اور راہداریوں کے شعبے میں، تاہم توانائی کے میدان میں ایران کی بڑی صلاحیت موجود ہے اور چین چاہتا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا کچھ حصہ ایران سے پورا کرے۔ خاص طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبوں جیسے پمپ اسٹیشنز، ریفائنریوں اور بجلی گھروں کے لیے، چین چاہتا رہا ہے کہ پاکستان یہ توانائی ایران سے حاصل کرے۔

رکاوٹیں کیا ہیں؟
ایرانی تجزیہ کار کے مطابق، سب سے بڑی ممکنہ رکاوٹ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تجرباتی مرحلہ ہے۔ پاکستان ایک ساتھ چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، یعنی ایک ایسا آزادانہ توازن بنانا چاہتا ہے، جو کسی ایک بلاک پر مکمل انحصار نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کیا وہ بیک وقت مشرقی اور مغربی دونوں بلاکس سے تعاون کرسکتا ہے۔ اگر پاکستان اس آزمائش میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ ایران پاکستان تعلقات کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے اور اگر ناکام ہوا تو رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔

سکیورٹی کے میدان میں خطے کا مستقبل:
ایرانی تجزیہ کار رضائی‌ نژاد نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ایران پر حالیہ صہیونی حملے نے پاکستان کو یہ احساس دلایا ہے کہ اسرائیل خطے میں کسی حد کا پابند نہیں، یہ بات پاکستان کے لیے، جو واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، ایک وارننگ تھی۔ اسی وجہ سے پاکستان لازمی طور پر ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا اور ایران بھی اسے ایک ترقی پاتے رجحان کے طور پر دیکھتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران اور پاکستان ایرانی تجزیہ کار ایران کے ساتھ پاکستان کی کہ پاکستان نے پاکستان سے پاکستان پاکستان کے کی کوشش کر میں ایران تعلقات کو کے درمیان ان کے لیے ایران کی ممالک کے کہ ایران کے مطابق انہوں نے کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم