Jang News:
2025-11-29@04:57:25 GMT

مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے: جسٹس جمال مندوخیل

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے: جسٹس جمال مندوخیل

—فائل فوٹو

چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے، 24 ججز کی میٹنگ ہوئی، کچھ شقوں کے حوالے سے معاملہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا، چند ججز نے اِن پُٹ دیا تھا اور چند نے نہیں دیا تھا۔

چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس امین الدین نے کہا کہ انٹرنیٹ کا مسئلہ ہے، آج کی سماعت لائیو نشر نہیں کی جائے گی۔

دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے وکیل عابد زبیری نے کہا کہ پارٹی جج پر اعتراض نہیں کر سکتی، کیس سننے کا یا نہ سننے کا اختیار جج کے پاس ہے، ہماری درخواست فل کورٹ کی ہے۔

جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ فل کورٹ کی بات نہ کریں، آپ کہیں وہ ججز جو 26ویں آئینی ترمیم سے قبل سپریم کورٹ میں موجود تھے۔

26 ویں آئینی ترمیم نہ ہوتی تو یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نہ بنتے، جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں 26ویں.

..

جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل عابد زبیری سے کہا کہ ایک طرف 16ججز کا کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف اجتماعی دانش کی بات کر رہے ہیں، ہمارے سامنے اس وقت آرٹیکل 191 اے موجود ہے جو آئین کا حصّہ ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں آرٹیکل 191 اے کو الگ رکھ دیں، کیسے رکھیں؟

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلے موجود ہیں، جس میں لکھا ہوا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس عائشہ ملک سے مکالمہ کیا کہ ان کو جواب دینے دیں، بینچز سپریم کورٹ رولز کے مطابق بنائے جائیں گے۔

وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ رول 2025 موجود ہے، جس کا نوٹیفکیشن ہو چکا، سپریم کورٹ رول کے آرڈر 11 کے مطابق کمیٹی بینچز بنائے گی۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ان رولز میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ بینچ چیف جسٹس بنائے گا۔ 

وکیل  عابد زبیری نے جسٹس مندوخیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ بینچ نہیں ہے، آج تک فل کورٹ کیسے بنے؟ آپ کا بھی فیصلہ موجود ہے۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فل کورٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ رول 2025 میں ہونا چاہیے تھا۔

وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آئینی ترمیم سے پہلے موجود ججز پر مشتمل فل کورٹ بنایا جائے، موجودہ 8 رکنی بینچ میں ہمیں اپیل کا حق نہیں ملے گا، آئینی بینچ کے لیے نامزد ججز کی تعداد 15ہے، اپیل پر سماعت کے لیے کم سے کم 9 مزید ججز درکار ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اپیل کا حق دینا ہے یا نہیں؟ اب فیصلہ جوڈیشل کمیشن کے ہاتھ میں آ گیا ہے، جوڈیشل کمیشن چاہے تو اضافی ججز نامزد کر کے اپیل کا حق دے سکتا ہے، جوڈیشل کمیشن کی مرضی نہ ہوئی تو اپیل کا حق چھینا بھی جاسکتا ہے، یہ سیدھا سیدھا عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپیل کا حق تو 16 رکنی بینچ میں بھی نہیں ہو گا۔

وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ اجتماعی دانش پر مبنی فیصلہ ہو تو اپیل کا حق لازمی نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کچھ وکلاء نے تو یہ بھی کہا کہ آرٹیکل 191 اے کو سائیڈ پر رکھ کر کیس سنا جائے، سمجھ نہیں آتا آئین کے کسی آرٹیکل کو سائیڈ پر کیسے رکھا جائے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ جو شق چیلنج ہو اسے کیسے سائیڈ پر رکھا جاتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز کے حوالے سے 24 ججز بیٹھے تھے، جن کے سامنے رولز بنے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سب کے سامنے سپریم کورٹ رولز نہیں بنے، میرا نوٹ موجود ہے۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میٹنگ منٹس منگوائے جائیں، سب ججز کو اِن پُٹ دینے کا کہا گیا تھا۔

جسٹس عائشہ ملک نے جسٹس جمال مندوخیل سے مکالمہ کیا کہ آپ ریکارڈ منگوا رہے ہیں نا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیس آگے نہیں چلے گا جب تک یہ کلیئر نہیں ہوتا۔

اٹارنی جنرل اٹھ کر روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ یہ اندرونی معاملہ ہے اس کو یہاں پر ڈسکس نہ کیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے، 24 ججز کی میٹنگ ہوئی، کچھ شقوں کے حوالے سے معاملہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا، چند ججز نے اِن پُٹ دیا تھا اور چند نے نہیں دیا تھا۔

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ کمیٹی کے پاس بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ بنانے کا اختیار نہیں، کمیٹی کے اختیارات چیف جسٹس کے اختیارات نہیں کہلائے جا سکتے۔ دونوں مختلف ہیں، ہم بینچز نہیں بلکہ فل کورٹ کی بات کر رہے ہیں۔

جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس فل کورٹ بنا سکتے ہیں جس میں آئینی بینچ کے تمام ججز ہوں؟  جس پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس ابھی بھی فل کورٹ بنانے کا اختیار موجود ہے، فل کورٹ تشکیل دینے کی ڈائریکشن دی جاسکتی ہے، انہوں نے مختلف فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔

جسٹس امین الدین نے وکیل سے کہا کہ آپ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ چیف جسٹس کو فل کورٹ تشکیل دینے کا کہیں، ماضی میں چیف جسٹس نے خود فل کورٹ تشکیل دیا۔

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کل دن ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی ہو گئی ہے۔

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جسٹس امین الدین نے کے حوالے سے سپریم کورٹ اپیل کا حق فل کورٹ کی کا اختیار موجود ہے چیف جسٹس دیا تھا رہے ہیں کیا جا

پڑھیں:

بغاوت کی سازش کے جرم میں برازیل کے سابق صدرکو سنائی گئی سزا 27سال قید کاآغاز

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برازیلیا: برازیل کی سپریم کورٹ نے منگل کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سابق صدر جائر بولسونارو کو ہدایات دی ہیں کہ وہ ناکام بغاوت کی سازش کے جرم میں سنائی گئی 27 سالہ سزا کا اطلاق شروع کریں، کیونکہ عدالت نے تمام اپیلیں خارج کر دی ہیں۔

برازیل میں دائیں بازو کو متحرک اور ملک کی سیاست کو بدل دینے والے سابق بے باک فوجی کپتان ایک متنازعہ کیریئر کے اختتام پر پولیس ہیڈکوارٹر کے ایک چھوٹے کمرے میں قید ہیں، جس میں ٹی وی، منی فرج اور ایئر کنڈیشن موجود ہے۔70 سالہ بولسونارو کو ستمبر میں 2022 کے انتخابات کے بعد لوئز اناسیو لولا دا سلوا کو صدر بننے سے روکنے کی سازش کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا، جس میں اس منصوبے کے تحت تجربہ کار بائیں بازو کے رہنما کو قتل کرنے کی سازش بھی شامل تھی۔

سپریم کورٹ نے اس ماہ کے شروع میں ان کی سزا کے خلاف اپیل کو مسترد کر دیا اور فیصلہ حتمی قرار دیا، عدالت نے فوجی ٹربیونل کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ بولسونارو سے ان کا کپتان کا رینک واپس لیا جائے یا نہیں۔

بولسونارو ہفتہ کو پولیس ہیڈ کوارٹرز میں قید کیے جانے سے قبل تک گھریلو حراست میں تھے، کیونکہ انہوں نے اپنے پاؤں میں موجود نگرانی کے آلے میں سولڈرنگ آئرن سے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس الیگزینڈر ڈی مورائس نے کہا کہ ایسے اشارے ملے کہ بولسونارو اپنے بیٹے کی طرف سے ان کے گھر کے باہر منعقدہ نگرانی کے دوران فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ: موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
  • سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
  • دہلی اور اسکے اطراف میں بدترین فضائی آلودگی، معاملہ پر غور کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی
  • کرپشن کیس ،بنگلادیش کی سپریم کورٹ نے شیخ حسینہ واجد کو 21سال کی سزا سنادی
  • صورتحال تو ایسی ہی ہے کہ تالے لگا دیں، آج عدالتیں مضبوط ہوتیں تو یہ سب نہ ہورہا ہوتا، جج ہائیکورٹ
  • نور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی
  • بغاوت کی سازش کے جرم میں برازیل کے سابق صدرکو سنائی گئی سزا 27سال قید کاآغاز
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: 190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کی ڈیپوٹیشن چیلنج، فیصلہ محفوظ
  • نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی اپیل مسترد، جسٹس باقر نجفی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا
  • بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں، پیسوں کےلیے جان کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا، جج سپریم کورٹ