وزیراعظم بننا عمران خان کی سب سے بڑی غلطی تھی: عفت عمر
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف ماڈل، اداکارہ و میزبان عفت عمر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا وزیراعظم بننا ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب سے خان صاحب کا دور اقتدار شروع ہوا، الزام تراشی اور انتشاری کا معمول بن گیا ہے۔
اداکارہ و میزبان نے ایک پوڈ کاسٹ میں بطور مہمان شرکت کرکے ملکی حالات، سیاست سمیت مختلف امور پر بات چیت کی۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس دن سے عمران خان صاحب اقتدار میں آئے ہیں، اس دن سے اب تک ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب انہیں سکون ملا ہو۔ ابھی شاید 2 دن سکون کے ملے ہوں لیکن ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب کوئی انتشاری نہ ہوئی ہو، کوئی دھمکی نہ ملی ہو، ان کے خلاف کوئی پروپیگنڈا نہ ہوا ہو۔
عفت عمر نے کہا کہ آپ صبح اُٹھتے ہیں ان لوگوں (بانی پی ٹی آئی کے مخالفین) نے ایک نئی جنگ شروع کی ہوئی ہوتی ہے، یہ لوگ آرام سے بیٹھ ہی نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ انہیں چور کہہ رہے ہیں تو اسے بھی عدالت سے ثابت ہونے میں وقت لگے گا۔
اداکارہ کے مطابق خان صاحب کی سب سے بڑی غلطی تھی کہ وہ وزیراعظم بننے، وہ بہت بڑے ہیرو تھے، وہ سب کے دلوں میں رہتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔