پاک بھارت میچز ہماری مجبوری ہیں، بھارتی کرکٹ بورڈ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے عالمی ایونٹس میں پاکستان سے نہ کھیلنے کا امکان رد کردیا۔تفصیلات کے مطابق سابق انگلش کپتان مائیک ایتھرٹن نے ایک روز قبل ایک کالم میں آئی سی سی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ایونٹس میں پاکستان اور بھارت کے میچز ’ارینج‘ کرنا چھوڑ دے۔ہر بار ایک ہی گروپ میں روایتی حریفوں کو ساتھ رکھنے کی وجہ صرف مالی فائدہ حاصل کرنا ہے، مگر اب ان کی وجہ سے کرکٹ سیاست سے آلودہ ہورہی ہے۔مائیک ایتھرٹن نے مطالبہ کیا کہ اگلے براڈکاسٹنگ دورانیے سے قبل آئی سی سی اپنے ایونٹس کے ڈراز کی شفافیت یقینی بنائے، اگر ایسے میں پاکستان اور بھارت کا ایک دوسرے سے سامنا نہیں ہوتا تو نہ ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی بھی بڑے اور سنجیدہ نوعیت کے ٹورنامنٹ میں صرف مالی مفاد کیلیے ڈراز نہیں بنائے جاتے۔مائیک ایتھرٹن کے اس مطالبے کی وجہ حالیہ ایشیا کپ میں بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کی جانب سے پاکستانی قائد سلمان آغا سے ٹاس کے موقع پر مصافحہ نہ کرنا اور پھر آخر میں ایشین کرکٹ کونسل کے پاکستانی صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار تھا۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق جب ایتھرٹن کی تجویز پر ایک بی سی سی آئی آفیشل سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کی باتیں کرنا بہت ہی آسان ہے، مگر کیا اسپانسرز اور براڈ کاسٹرز اس سے متفق ہوں گے؟بی سی سی آئی آفیشل نے کہا کہ آج کے حالات میں بھارت نہیں کوئی بھی بڑی ٹیم اگر ٹورنامنٹ سے دستبردار ہوئی تو پھر اسپانسرز کی توجہ حاصل کرنا بہت ہی مشکل ہوگا۔یاد رہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایشیا کپ ٹرافی بدستور ایشین کرکٹ کونسل کے دبئی ہیڈکوارٹر میں موجود ہے۔محسن نقوی واضح کرچکے کہ اگر بھارت کو ٹرافی چاہیے تو پھر سوریا کمار یادیو خود اے سی سی ہیڈکوارٹر آ کر ان سے ٹرافی وصول کرلیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی وجہ
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان