پاکستان، چین کے درمیان آبی تحفظ کیلئے 5 ارب یوآن کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کی سائکلون ٹیکناجی اور چین کی شانشی واٹر ڈویلپمنٹ اینڈ کنسٹرکشن گروپ کے درمیان5 ارب یوآن کے آبی تحفظ کے معاہدے پر دستخط ہو گئے، یہ تعاون پاکستان کے آبی نظم و نسق کے شعبے میں خاص طور پر آبپاشی کے غیر مؤثر نظام اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے اہم چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق معاہدے کے تحت، دونوں ممالک پاکستان بھر میں جامع آبی تحفظ اور اسمارٹ واٹر مینجمنٹ کے منصوبے مشترکہ طور پر تیار کریں گے۔دونوں فریق پاکستان بھر میں آبی تحفظ اور سمارٹ واٹر مینجمنٹ کے منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ اس شراکت داری میں چین کی جدید انجینئرنگ مہارت اور پاکستان کی زمینی صلاحیتوں کو یکجا کیا جائے گا تاکہ غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے اہم فرسودہ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جا سکے۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق سائکلون ٹیکنالوجی کے ایک سینئر نمائندے نے کہا کہ یہ شراکت داری چین کی تکنیکی برتری اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کے درمیان ایک عملی پْل کا کردار ادا کرتی ہے۔ ہمارا مقصد اسمارٹ اور ڈیٹا پر مبنی واٹر مینجمنٹ سسٹمز متعارف کرانا ہے‘ جو ملک بھر میں مؤثر اور پائیدار ہو۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق سائکلون ٹیکنالوجی کے سی ای او، توصیف عباس نے کہا کہ پاکستان کے آبی انفراسٹرکچر کو متعدد ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں پرانے آبپاشی نظام، پانی کی غیر مؤثر تقسیم، اور ناکافی ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔ خاص طور پر خشک سالی کے دوران، جبکہ ڈیٹا پر مبنی سیلابی نظام موسمی خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گا۔ جدید ذہین کنٹرول سسٹمز بھی متعارف کرائے جائیں گے جو دریا کے بہاؤ، بارش اور زیر زمین پانی کی حقیقی وقت میں نگرانی کر سکیں گے ایسی ٹیکنالوجی جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نہایت اہم ثابت ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔