data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے تحت 1.2 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔

یہ پیش رفت ملکی معیشت کے استحکام اور بیرونی مالیاتی اداروں کے اعتماد کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی اقتصادی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔

عالمی ادارے کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں مالی نظم و ضبط، افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ 14 سال بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں آنا معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، مالیاتی نظم اور ساختی تبدیلیوں کے ایجنڈے کو بھرپور عزم کے ساتھ آگے بڑھایا ہے، تاہم آئی ایم ایف نے زور دیا کہ ماحولیاتی خطرات خصوصاً حالیہ تباہ کن سیلابوں کے بعد طویل مدتی پالیسیوں پر مستقل عمل درآمد ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ معاہدہ مکمل طور پر تعمیری ماحول میں طے پایا ہے اور یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت میں عالمی اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے علاوہ 7 ارب ڈالر کے EFF اور 1.

4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبیلٹی ٹرسٹ (RST) پر بھی جائزہ متوقع ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان رواں سال کے اختتام سے قبل پہلا گرین پانڈا بانڈ جاری کرے گا، جبکہ آئندہ سال عالمی مارکیٹ میں کم از کم ایک ارب ڈالر کا بین الاقوامی بانڈ متوقع ہے۔ یورو، ڈالر اور سکوک بانڈز کے اجرا پر بھی غور جاری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کا نجکاری پروگرام آئندہ مالی سال میں تیزی سے آگے بڑھے گا، جس کے تحت قومی ایئر لائن پی آئی اے سمیت 3 بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت پر نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔ یورپ اور برطانیہ کے لیے پروازوں کی بحالی کے بعد 5 بین الاقوامی گروپس نے پی آئی اے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

یہ معاہدہ بظاہر نہ صرف پاکستان کے مالی استحکام بلکہ بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی نئی راہیں کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو مستقبل قریب میں ملکی معیشت کے لیے خوشگوار اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف ارب ڈالر کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں

گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے