واشنگٹن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امید ظاہر کی ہے کہ رواں ہفتے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا۔
دورہ واشنگٹن کے موقع پر غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کے اسٹاف لیول معاہدے کا امکان ہے، آئی ایم ایف پروگرام نے پاکستان کی 370 ارب ڈالر معیشت کو سہارا دیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،کرنسی میں کمی اور مالی بحران کے بعد استحکام کی جانب پیش رفت ہے اور پاکستان پہلا گرین پانڈا بانڈ رواں سال کے اختتام سے قبل جاری کرے گا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں کم از کم ایک ارب ڈالر کا بانڈ اگلے سال متوقع ہے، یورو، ڈالر یا سکوک تمام آپشنز کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا نجکاری پروگرام آئندہ مالی سال میں تیزی سے آگے بڑھے گا، پی آئی اے اور تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت پر پیش رفت ہوئی ہے اور پی آئی اے کے لیے اہل سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یورپ اور برطانیہ کی پروازوں کی بحالی سے پی آئی اے سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش ہے، پی آئی اے کی نج کاری دو دہائیوں بعد پہلی بڑی فروخت ہو گی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پانچ گروپس نے پی آئی اے کی نج کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جس میں ایئربلیو، لکی سیمنٹ، عارف حبیب، فوجی فرٹیلائزر سمیت دیگر شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب نے ئی ایم ایف پی ا ئی اے نے کہا کہ

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ