data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے اہم ترجیح غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کی مہم کا فوری خاتمہ اور فلسطینی ریاست کا قیام تھا اور یہ پالیسی جاری رہے گی۔

انہوں نے یہ بات شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن کانفرنس کے بعد وطن واپسی کے موقع پر اپنی ایک تفصیلی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہی۔

وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان نے دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر عالمی برادری کے سامنے فلسطینی عوام پر جاری ظلم و جارحیت  کے خاتمے کا مضبوط اور واضح مطالبہ کیا۔ کانفرنس میں پاکستان کا مؤقف دو ٹوک اور اصولی تھا کہ غزہ میں جاری خونریزی کو فوری روکا جائے، جنگ بندی نافذ کی جائے اور انسانی امداد کا راستہ کھولا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزادی کے لیے آواز بلند کی ہے۔ شرم الشیخ کانفرنس میں پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے دنیا پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے انصاف اور انسانیت کے تقاضوں پر عمل کرے۔

وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات پر تعریف کی کہ انہوں نے وعدہ کیا کہ اس ظلم کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے اور اپنی گفتگو میں انہوں نے امن کے فروغ کے عزم کو واضح کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اس امن کوشش کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ عمل فلسطینی عوام کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کی آزادی، وقار اور خوشحالی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہے۔ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک مضبوط اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، پاکستان کے اصولی مؤقف کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

وزیراعظم نے اپنی پوسٹ کے آخر میں دعا کی کہ غزہ کے مظلوم عوام کو امن، آزادی اور انصاف میسر آئے اور عالمِ اسلام متحد ہو کر فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتا رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ پاکستان انہوں نے

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ