فلسطینی ریاست کا قیام پاکستان کی اولین ترجیح تھا اور رہے گا، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے اہم ترجیح غزہ پر مسلط کی گئی نسل کشی کی مہم کا فوری خاتمہ اور فلسطینی ریاست کا قیام تھا اور یہ پالیسی جاری رہے گی۔
انہوں نے یہ بات شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن کانفرنس کے بعد وطن واپسی کے موقع پر اپنی ایک تفصیلی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہی۔
وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان نے دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر عالمی برادری کے سامنے فلسطینی عوام پر جاری ظلم و جارحیت کے خاتمے کا مضبوط اور واضح مطالبہ کیا۔ کانفرنس میں پاکستان کا مؤقف دو ٹوک اور اصولی تھا کہ غزہ میں جاری خونریزی کو فوری روکا جائے، جنگ بندی نافذ کی جائے اور انسانی امداد کا راستہ کھولا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزادی کے لیے آواز بلند کی ہے۔ شرم الشیخ کانفرنس میں پاکستان نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے دنیا پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے انصاف اور انسانیت کے تقاضوں پر عمل کرے۔
وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات پر تعریف کی کہ انہوں نے وعدہ کیا کہ اس ظلم کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے اور اپنی گفتگو میں انہوں نے امن کے فروغ کے عزم کو واضح کیا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اس امن کوشش کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ عمل فلسطینی عوام کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کی آزادی، وقار اور خوشحالی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہے۔ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک مضبوط اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، پاکستان کے اصولی مؤقف کا حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وزیراعظم نے اپنی پوسٹ کے آخر میں دعا کی کہ غزہ کے مظلوم عوام کو امن، آزادی اور انصاف میسر آئے اور عالمِ اسلام متحد ہو کر فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتا رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پاکستان انہوں نے
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔