چمن (آئی این پی )پاکستان‘ افغان کشیدگی کے بعد چمن ‘طورخم ‘ قلعہ سیف اللہ اور چاغی کے مقام پر براہمچہ کے مقام پر بھی افغان سرحد  پیر کو دوسرے روز بھی مکمل بند رہی ۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث آمدورفت بند ہے‘سرحد پر سکیورٹی کے انتظامات بدستور سخت ہیں۔واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 11 اور 12اکتوبر کی رات پاک افغان سرحد کے قریب افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کی جانب سے حملہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے پاک فوج کی جانب سے سرحد پر بزدلانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 21افغان پوزیشنز پر عارضی طور پر قبضہ کرلیا گیا اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے مراکز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں وطن کے 23سپوت شہید جبکہ 29زخمی ہوگئے۔ پاک فوج کی جانب سے سرحد پر بزدلانہ حملوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ پاک فوج کی جانب سے موثر جواب کے نتیجے میں 200 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان نے طالبان حکومت کے ترجمان کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنے داخلی معاملات پر کسی بیرونی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم نے طالبان حکمت کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے داخلی معاملات سے متعلق حالیہ بیانات کا نوٹس لیا ہے۔ ہم افغان ترجمان پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغانستان سے متعلق معاملات کو ترجیح دیں اور اپنے دائرہ اختیار سے باہر کے امور پر تبصرے سے گریز کریں۔ ترجمان نے کہا کہ دوسرے ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر عمل کرنا بین الاقوامی سفارتی روایات کے مطابق ضروری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ طالبان حکومت دوحہ عمل کے دوران عالمی برادری سے کئے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔ طالبان حکومت کو اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ اس کے علاوہ حکومت کو بے بنیاد پراپیگنڈے میں ملوث ہونے کی بجائے ایک جامع اور حقیقی نمائندہ حکومت کے قیام پر توجہ دینی چاہئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کی جانب سے پاک فوج کی کے مطابق

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی