سیکیورٹی اجلاسوں میں شرکت کی اجازت مانگنے اور بھارتی وزیر کا حوالہ دینے والے کارپینٹر پر جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے شہری کی جانب سے رینجرز کو مقدمہ اندراج کا اختیار دینے سے متعلق دائر درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کردیا جبکہ جج نے بھارتی وزیر کے بیان کا حوالہ دینے پر بھی سخت ریمارکس دیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے رینجرز کو مقدمے کے اندراج کے اختیارات سے متعلق درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کردی۔
قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو رینجرز کو مقدمے کے اندراج کے اختیارات سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار نے کہا کہ پولیس اور رینجرز کو کارروائی کا حکم دیا جائے اور شہریوں کا قتل عام روکا جائے۔ درخواستگزار کو جرائم کی روک تھام کی آفیشنل میٹنگ میں شریک کرنے کا حکم دیا جائے۔
قائم مقام چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ جس درخواستگزار نے کہا کہ میں کارپینٹر کا کام کرتا ہوں۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے اپنی درخواست پڑھی ہے؟ پڑھیں درخواست میں کیا لکھا ہے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ اس درخواست میں لکھا ہے کہ بھارتی وزیر نے میڈیا پر شہر میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ شرم آتی ہے بھارتی وزیر کا بیان کا حوالہ دیتے ہوئے؟
جج نے سخت ریمارکس دیے ہوئے کہا ہک کس کے مفاد کو پورا کرنے کے لئے عدالت آئے ہیں؟
عدالت نے شہری ندیم کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد کردی۔ عدالت نے درخواستگزار کو 50 ہزار جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیدیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر رینجرز کو
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔