سہیل آفریدی کی حلف برداری کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست جمع
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پشاور ہائی کورٹ میں نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری کےلیے درخواست جمع کرادی گئی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اور ممبران نے نئے وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے معاملے میں عدالت عالیہ پشاور کے رجسٹرار کے پاس درخواست جمع کرائی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سے حلف لینا ضروری ہے، جس میں تاخیر نہیں کی جاسکتی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد سہیل آفریدی نئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا منتخب ہوگئے ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ سہیل آفریدی 90 ووٹ حاصل کرکے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں، نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کےلیے گورنر صوبے میں موجود نہیں ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 255 کے تحت حلف کے لیے چیف جسٹس کسی کو بھی نامزد کرسکتے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی یا کسی بھی شخص کو حلف کے لیے نامزد کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی درخواست میں سے حلف گیا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔