سہیل آفریدی کی حلف برداری کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست جمع
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پشاور ہائی کورٹ میں نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حلف برداری کےلیے درخواست جمع کرادی گئی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اور ممبران نے نئے وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے معاملے میں عدالت عالیہ پشاور کے رجسٹرار کے پاس درخواست جمع کرائی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سے حلف لینا ضروری ہے، جس میں تاخیر نہیں کی جاسکتی ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد سہیل آفریدی نئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا منتخب ہوگئے ہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ سہیل آفریدی 90 ووٹ حاصل کرکے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں، نو منتخب وزیراعلیٰ سے حلف لینے کےلیے گورنر صوبے میں موجود نہیں ہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 255 کے تحت حلف کے لیے چیف جسٹس کسی کو بھی نامزد کرسکتے ہیں۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی یا کسی بھی شخص کو حلف کے لیے نامزد کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی درخواست میں سے حلف گیا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔