پی ٹی آئی کا نو منتخب وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی حلف برداری کیلئے عدالت سے رجوع کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پی ٹی آئی کا نو منتخب وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی حلف برداری کیلئے عدالت سے رجوع کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 October, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)نو منتخب وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی حلف برداری کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع نے کہا کہ پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم رات سے ہی پشاور میں موجود ہے، بیرسٹر علی ظفر، نعیم حیدر پنجھوتا اور دیگر رہنما پشاور میں موجود ہیں نئے وزیر اعلی کا آج ہی پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا امکان ہے جب کہ تحریک انصاف کے صوبائی صدر وکلا کے ہمراہ پشاور ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ذرائع نے کہا کہ نو منتخب وزیر اعلی چیف جسٹس کو خط لکھیں گے، وہ ایڈووکیٹ جنرل کے توسط سے خط چیف جسٹس کو ارسال کریں گے، 26ویں آئینی ترمیم کے بعد چیف جسٹس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی حلف لینے کا حکم دے سکتا ہے۔
اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ ہماری لیگل ٹیم حلف کے حوالے سے پیٹیشن تیار کررہی ہے، گورنر کے پی اگر حلف لینے سے منع کرتے ہیں تو فوری طور پر پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر گورنر منع کریں گے تو چیف جسٹس سے حلف لینے کی درخواست کریں گے، ہم پیٹیشن تیار کر رہے ہیں اگر حلف لینے سے منع کیا جاتا ہے تو فورا پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے، ہم امید کرتے ہیں کہ گورنر کے پی کے فیصل کریم آئینی ذمہ داری نبھائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ معاہدہ، آج صرف جنگ کا نہیں دہشت گردی و انتہا پسندی کا بھی خاتمہ ہوا، ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب غزہ معاہدہ، آج صرف جنگ کا نہیں دہشت گردی و انتہا پسندی کا بھی خاتمہ ہوا، ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب وطن عزیز میں مذہب کے نام پر جتھے بنانا اور عوام کو یرغمال بنانا توہین مذہب ہے، خواجہ آصف غزہ امن منصوبہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی جانب اہم قدم ہے: وزیراعظم چین، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری میں مثبت کردار ادا کرتے رہنے کو تیار ہے،چینی وزارتِ خارجہ مریدکے؛مذہبی جماعت کے مشتعل کارکنان کا پولیس پر پتھراو، ایک اہلکار شہید متعدد زخمی میرا قائد عمران خان فوجی آپریشن کیخلاف تھا، ہم بھی اس کے خلاف ہیں، نو منتخب وزیر اعلیٰ کے پیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نو منتخب وزیر اعلی پی ٹی آئی
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔