مقابلے کے امتحان میں کامیاب امیدواروں کی جوابی کاپی پبلک نہ کرنے کیخلاف درخواست، فریقین کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے ایس پی ایس سی کے امتحانات میں کامیاب امیدواروں کی جوابی کاپیاں پبلک نہ کرنے کیخلاف درخواست سندھ انفارمیشن کمیشن اور سندھ پبلک سروس کمیشن کو نوٹس جاری کردیے۔
ہائیکورٹ میں ایس پی ایس سی کے امتحانات میں کامیاب امیدواروں کی جوابی کاپیاں پبلک نہ کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار نے کہا کہ ایس پی ایس سی کامیاب امیدواروں کی جوابی کاپیاں پبلک کرنے کی پابند ہے، سندھ پبلک سروس کمیشن مختلف آسامیوں کے لیے امتحان لیتا ہے۔
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ پاس امیدواروں کی فہرست کمیشن کی جانب سے جاری کی جاتی ہے۔ ان پاس امیدواروں کی جوابی کاپیاں پبلک کی جائیں۔ پتا چلے کہ امیدوار نے کتنے سوالات کے درست جواب دیئے ہیں۔
عدالت نے سندھ انفارمیشن کمیشن اور سندھ پبلک سروس کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 5 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کامیاب امیدواروں کی جوابی کرنے کی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔