تصویر: رپورٹر

کراچی کے ضلع وسطی میں قائم ماڈرن انگلش گرامر لوئر سیکنڈری اسکول فیڈرل بی ایریا نمبر 9 بھی لینڈ مافیا کی نذر ہوگیا۔

اطلاعات کے مطابق سنگم گراؤنڈ فیڈرل بی ایریا بلاک 9 میں سرکاری اسکول ’ماڈرن انگلش گرامر لوئر سیکنڈری اسکول‘ قائم تھا جسے سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں راتوں رات قبضہ کر کے توڑنے کی کوشش کی گئی، معاملہ میڈیا میں آیا تو رک گیا، پولیس نے توڑنے والے کو گرفتار بھی کیا مگر اسکول کی مرمت نہیں کی گئی۔ 

اس وقت اسکول میں 200 بچے تھے پھر یہ دوبارہ تعمیر نہیں ہوا، اپریل 2021 میں اچانک لینڈ مافیا نے پورا اسکول خاموشی سے گرادیا تھا اور وہ خالی پلاٹ میں تبدیل ہوگیا تھا۔

 یہ اسکول 400 گز کے کارنر پلاٹ پر واقع ہے جس کی قیمت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔ 1974 میں بھٹو کے دور حکومت میں اسے قومیا لیا گیا تھا اس کے اصل مالکان بیرون ملک چلے گئے تھے اور پھر واپس نہیں آئے۔ اس کی ملکیت کا کوئی دعویدار بھی نہیں تھا اور تاحال یہ سرکار کی ملکیت میں تھا مگر کچھ عرصہ قبل اس کا چوکیدار بھی ریٹائر ہوگیا تھا جس کے بعد یہاں کسی اور کو تعینات نہیں کیا گیا جس کا فائدہ لینڈ مافیا نے اٹھایا اور راتوں رات اسکول توڑ دیا۔ 

اس وقت کے ڈی او سیکنڈری اسکول وسطی ارشد بیگ جو اب ڈائریکٹر سیکنڈری اسکول کراچی ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ میں نے اسکول کا خود دورہ کیا تو دیکھا کہ اسکول کو ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا ہے، یہ اسکول کئی سال سے بند تھا اور لینڈ مافیا کی اس پر نظریں تھیں تاہم اس معاملے کی جانچ پڑتال اور عمارت توڑنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی، پلاٹ کو محفوظ بنانے کے لیے ایجوکیشن ورکس کو خط لکھا جائے گا کہ وہ فوری طور پر چار دیواری اور کچھ کمرے تعمیر کردیں تاہم چار سال گزرنے کے باوجود پلاٹ کو لینڈ مافیا کے قبضے کے لیے خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ 

نمائندہ جنگ نے جب ڈائریکٹر اسکولز کراچی ارشد بیگ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ لینڈ مافیا نے اسکول کے خالی پلاٹ پر چار دیواری قائم کرنا شروع کردی ہے چناچہ میں نے اپنے ڈی او کو وہاں بھیج دیا ہے، معاملہ عدالت میں ہے اسکول کا اصل مالک کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب میں ڈی او تھا تو اس وقت اس کی عمارت گرائی گئی تھی میں نے ایف آئی آر کٹوائی تھی اور تجویز دی تھی کہ جگہ کو لینڈ مافیا سے بچانے کے لیے فوری محکمہ تعلیم کا دفتر قائم کردیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سیکنڈری اسکول لینڈ مافیا

پڑھیں:

حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

 حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا