اسرائیل نے مزید 45 فلسطینی شہدا کی میتیں غزہ کے حوالے کردیں؛ مجموعی تعداد 90 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت گزشتہ کل کی طرح آج بھی حماس نے مزید 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کیں جس کے بدلے 45 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ بھیجی گئیں۔
عرب میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے تحت حماس اور اسرائیل کے درمیان لاشوں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ کل اور آج حماس نے چار چار اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کیں جب کہ اب بھی ممکنہ طور پر 20 یرغمالیوں کی لاشیں غزہ میں موجود ہیں۔
بدلے میں اسرائیل نے بھی کل 45 اور آج بھی 45 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ کے حوالے کی گئی ہیں جس سے مجموعی تعداد 90 ہوگئی۔
اسرائیل نے جو لاشیں غزہ کے حوالے کیں ان میں سے اکثر مسخ شدہ ہیں۔ کئی کے ہاتھ ہتھکڑی میں بندھے تھے اور کچھ کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔
لاشوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قتل سے قبل بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور متعدد روز سے بھوکا رکھا گیا تھا۔
غزہ کی انتظامیہ نے بتایا کہ لاشوں کو شناخت اور ضروری کاغذی کارروائیوں کے بعد لواحقین کے حوالے کی جائیں گی۔
جن فلسطینیوں کی لاشیں حوالے کی گئی ہیں ان میں سے اکثر قیدی تھے اور غیر قانونی طور پر اسرائیل کے ٹارچر سیلوں میں رکھے گئے تھے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ مزید اور کتنی لاشیں اسرائیل کے پاس موجود ہیں اور ان کی واپسی کب تک ممکن ہے۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاشیں غزہ کی لاشیں کے حوالے حوالے کی
پڑھیں:
اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ کے جنوبی علاقے میں حماس کی سرنگوں میں نو ’دہشتگردوں‘ کو ہلاک کردیا ہے جس سے سرنگوں میں شہید ہونے والی فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 30 ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ مشرقی رفح میں آپریشن کے دوران، فوجیوں نے 9 اضافی ’دہشت گردوں‘ کو تلاش کیا جنہیں زیر زمین دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے میں ختم کر دیا گیا۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اب تک، مشرقی رفح میں زیر زمین دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 30 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل حماس نے ثالثی کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر فلسطینیوں کی واپسی اور امداد کیلئے محفوظ راستہ دینے کے لیے دباؤ ڈالیں۔۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی امریکہ، مصر، ترکی اور قطر کی ثالثی میں 10 اکتوبر کو عمل میں آئی تھی جبکہ اس کے بعد سے اسرائیل جنگ بندی کی سینکڑوں مرتبہ خلاف ورزیاں کرچکا ہے۔