وائناڈ دنیا کی بہترین کافی پیدا کرنے پر بھی جائز دام سے محروم ہے، پرینکا گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ کسانوں سے ملاقات نہایت دلچسپ رہی، یہاں کافی کی بے شمار اقسام اگائی جارہی ہیں اور کسان اپنی محنت سے کامیابی حاصل کررہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وائناڈ سے کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے ایک بار پھر مقامی کسانوں کے مسائل پر توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وائناڈ کے کسان نہ صرف دنیا کی بہترین کافی اگاتے ہیں بلکہ وہ اپنی محنت اور جدت کے ذریعے دیہی معیشت میں نئی روح پھونک رہے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وائناڈ کے پُرعزم اور کامیاب کافی کسانوں سے ملاقات نہایت دلچسپ رہی، یہاں کافی کی بے شمار اقسام اگائی جا رہی ہیں اور کسان اپنی محنت سے کامیابی حاصل کر رہے ہیں، تاہم اب بھی کافی کاشت کاروں کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں سے چند معاملات میں نے متعلقہ وزارتوں سے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ دنیا کی بہترین کافی وائناڈ میں اگتی ہے، یہاں تک کہ کیرالہ کی کل کافی پیداوار کا تقریباً 85 فیصد اسی علاقے سے آتا ہے، یہاں کی روبسٹا کافی کو بین الاقوامی سطح پر ایوارڈ ملے ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ جس نرخ پر یہ بیرونِ ملک فروخت ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں کسانوں سے خرید کے دام بہت کم ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ مثالی طور پر کسانوں کو اپنی پیداوار براہِ راست بہتر نرخوں پر فروخت کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ایسا نظام وضع کرنا چاہیئے جو کسانوں کو عالمی سطح پر اپنی منڈیوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرے۔
شیئر کی گئی ویڈیو میں پرینکا گاندھی کافی کے کھیتوں میں کسانوں سے بات چیت کرتی نظر آ رہی ہیں، وہ مختلف اقسام کے بیج اور پودوں کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہیں اور کسان انہیں یہ بتا رہے ہیں کہ وائناڈ کی مخصوص آب و ہوا کافی کے ذائقے کو منفرد بناتی ہے۔ ویڈیو میں وہ کسانوں کے ساتھ خصوصی برتنوں کا بھی جائزہ لے رہی ہیں، جو غالباً کافی پینے کے ہیں۔ یہ ویڈیو ان کے حالیہ دورہ وائناڈ کی ایک اور کڑی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 10 اکتوبر کو ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ کیرالہ کے ضلع کوزیکوڈ کے تروومباڈی قصبے کے قریب اناکمپویل گاؤں کے کارمل ایگرو فارم میں "فارم اسٹے ٹورزم" کے منصوبے سے وابستہ کسانوں سے ملی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے سرکاری ایجنسیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ فارم اسٹے سیاحت کو فروغ دیں تاکہ شہری بچوں کو فطرت سے قریب لایا جا سکے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پرینکا گاندھی انہوں نے رہی ہیں
پڑھیں:
دنیا کے کم عمر ترین وائس چانسلر کا اعزاز پاکستان کے پاس
لاہور:گینز ورلڈ ریکارڈز نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی) کے وائس چانسلر محمد شاہ زیب اعوان کو دنیا کے کم عمر ترین مرد یونیورسٹی چانسلر کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔29 سالہ شاہ زیب اعوان کے لیے یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کی علامت ہے بلکہ پاکستان کی نئی قیادت اور ابھرتے ہوئے تعلیمی رجحانات کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
شاہ زیب اعوان نے بتایا کہ این آئی ٹی ایک وفاقی رجسٹرڈ چارٹرڈ ادارہ ہےجو اپنی تعلیمی شراکت داری کے ذریعے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نئے رجحانات متعارف کرا رہا ہے۔ یہ شراکت داری امریکا کی معروف اور جدت پسند ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ساتھ قائم ہے، جس کے تحت این آئی ٹی عالمی معیار کے تعلیمی تجربے کو مقامی ضروریات، علاقائی تناظر اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی خود کو طلبہ مرکوز اور مستقبل پر نظر رکھنے والا ادارہ قرار دیتی ہے، جہاں نصاب اور تربیت کا بنیادی مقصد ایسے گریجویٹس تیار کرنا ہے جو بنیادی اصولوں کو سمجھنے والے، خود سیکھنے کی صلاحیت رکھنے والے اور عالمی منڈیوں میں کام کرنے کے قابل ہوں۔ این آئی ٹی کے پروگرام عملی تربیت، صنعت سے روابط اور پیشہ ورانہ مواقع کے براہ راست تعلق پر استوار کیے گئے ہیں تاکہ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو کم کیا جا سکے۔
شاہ زیب اعوان کے لیے یہ عالمی اعزاز ذاتی طور پر بھی گہری معنویت رکھتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی زندگی کا فیصلہ کن لمحہ وہ تھا جب 11 برس قبل ان کے والد کا انتقال ہوا۔ ان کے مطابق یہی واقعہ انہیں ایسی راہ پر لے آیا جہاں وہ دوسروں کے لیے مواقع پیدا کر سکیں اور اپنی کمیونٹی کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔
شاہ زیب اعوان کا کہنا ہے کہ حالات انسان کی زندگی کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ انتخاب کرتے ہیں اور انہوں نے وہ راستہ چنا جس سے دوسروں کا بھلا ہو سکے۔
انہوں نے اس اعزاز کو صرف اپنی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی نوجوان نسل کے نام ایک پیغام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت عمر سے نہیں بلکہ عزم، نظم و ضبط اور مقصد سے پیدا ہوتی ہے، اور یہ کامیابی محض آغاز ہے۔
شاہ زیب اعوان نے امید ظاہر کی کہ این آئی ٹی مستقبل میں صنعت کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا، بین الاقوامی روابط بڑھائے گا اور طلبہ کو ایسے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرے گا جن کے ذریعے وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔