البانیہ: ملزم نے کیس کا فیصلہ سناتے ہی جج کو فائرنگ کرکے قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
البانیہ: ملزم نے کیس کا فیصلہ سناتے ہی جج کو فائرنگ کرکے قتل کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
البانیہ کی عدالت میں مسلح شخص نے دوران سماعت فائرنگ کر کے جج کو قتل کر دیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق البانیہ کے دارالحکومت ترانا کی عدالت میں ایک کیس کی سماعت جاری تھی کہ اسی دوران ایک شخص نے جج پر فائرنگ کر دی۔
حکام کے مطابق پراپرٹی تنازع سے متعلق کیس کی سماعت کرنے والے جج ایسترت کلاجا اسپتال منتقلی کے دوران انتقال کر گئے جبکہ فائرنگ سے دو افراد جو رشتے میں باپ اور بیٹا ہیں وہ بھی زخمی ہوئے تاہم دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
البانین پولیس نے فائرنگ کرنے والے 30 سال نوجوان کو حراست میں لیکر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور ملزم کو عدالت کے اندر پستول کے ساتھ آنے کی اجازت دینے والے اس کے سکیورٹی گارڈ انکل کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق جیسے ہی جج نے کیس کا فیصلہ سنایا تو ملزم نے فوری طور پر پستول نکالتے ہوئے جج پر متعدد گولیاں چلا دیں، اس کے بعد ملزم نے کیس کے درخواست گزار باپ بیٹے پر بھی گولیاں برسا دیں جس سے دونوں زخمی ہو گئے، دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں علاج و معالجے ک سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب: اپوزیشن کس طرح نمبر گیم سے بازی پلٹ سکتی ہے؟ اسرائیل، حماس نے امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی، صدر ٹرمپ مصری صدر کی ٹرمپ کو غزہ جنگ بندی معاہدے کی صورت میں دستخطی تقریب میں شرکت کی دعوت بنگلادیشی عدالت کا گزشتہ حکومت کے دوران جبری گمشدگیوں پر 24 اعلی فوجی افسران کی گرفتاری کا حکم امن کا سارا بوجھ حماس پر ڈالنا ٹھیک نہیں، اسرائیل کو حملے بندکرنا ہوں گے، اردوان اسرائیل پر اعتبار نہیں، حماس ، مذاکرات کیلئے ٹرمپ سے ضمانت مانگ لی جرمنی میں نو منتخب میئر چاقو حملے میں شدید زخمی، تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے کیس
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔