برطانوی اخبار دی گارجین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سنبھالنا صرف پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو آتا ہے۔

اخبار نے لکھا کہ شرم الشیخ میں ٹرمپ نے کئی عالمی رہنماؤں کو زچ کیا، اطالوی وزیراعظم کے حسن کی تعریف کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے شرم الشیخ میں برطانوی وزیراعظم کو اشارہ دیا کہ جیسے وہ انھیں گفتگو کے لیے بلا رہے ہیں، مگر پھر خود مائیک سنبھال کر انھیں شرمندہ کر دیا۔

برطانوی اخبار نے مزید لکھا کہ ایسے میں واحد رہنما جنھیں معلوم تھا کہ ٹرمپ کو کیسے سنبھالنا ہے، وہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف تھے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ امن کے علمبردار ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف

مصر کے شہر شرم الشیخ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اہم دن ہے انتھک محنت کے بعد غزہ میں امن کیلئے کامیاب ہوئے، آج غزہ کے لیے اہم اور تاریخی دن ہے۔

دی گارجین نے لکھا کہ شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی بہت زیادہ تعریف کی۔ ایک موقع پر ٹرمپ نے اسٹیج کی جانب واپس آنا چاہا تو شہباز شریف نے انھیں روک دیا اور اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھا۔

گارجین کے مطابق ٹرمپ اس تقریب میں دو گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے پہنچے۔ پہلے انھوں نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زائد سے ملاقات پر ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بہت سا کیش ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا

امریکی صدر نے شہباز شریف کے علاوہ ان تمام دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جو غزہ امن کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔

پھر اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی کے حسن کی تعریف کی، ہنگری کے صدر وکٹر اوربان کے بارے میں کہا کہ انھیں بہت سے لوگ پسند نہیں کرتے مگر میں انھیں پسند کرتا ہوں اور اہمیت بھی صرف میری ہی ہے۔ 

برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کے بارے میں کہا کہ وہ کہاں ہیں، ہمیشہ کی طرح میرے پیچھے کھڑے ہیں۔ اسٹارمر سمجھے کہ انھیں بولنے کی دعوت دی جارہی ہے مگر ٹرمپ نے ایک بار پھر مائیک پر گفتگو شروع کی تو اسٹارمر کو شرمندہ سا ہو کر واپس اپنی جگہ پر جانا پڑا۔

کینیڈا کے وزیراعظم کو شکایت تھی کہ ٹرمپ نے انھیں وزیراعظم کے بجائے صدر کیوں کہا، ٹرمپ نے ان سے کہا کہ شکر کرو تمھیں کینیڈا کا گورنر نہیں کہا۔ 

گارڈین کے مطابق واحد رہنما جو ٹرمپ کو سنبھالنے میں کامیاب رہے وہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ کو کہا کہ

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ