وزیراعلیٰ کے پی کو جس طرح ہٹایا گیا، وہ صرف بادشاہت میں ممکن ہے: اکبر ایس بابر
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رکن اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی کو جس طرح ہٹایا گیا، وہ صرف بادشاہت میں ممکن ہے، یہ جمہوریت میں ممکن نہیں ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں بانی چیئرمین کی کوئی قانونی حیثیت یا اختیار نہیں، وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے لیے پارلیمانی پارٹی کا کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔
گزشتہ روز علی امین گنڈاپور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی عدم اعتماد کی تحریک پیش نہیں کی گئی، نہ ووٹنگ ہوئی، نئے پارلیمانی لیڈر کے انتخاب کے لیے پارلیمانی پارٹی کا کسی قسم کا انتخابی عمل نہیں ہوا۔
اکبر ایس بابر نے کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ تو چھوڑیں، چپڑاسی کو فارغ کرنے کا بھی کوئی قانونی طریقہ کار ہوتا ہے، جس انداز میں وزیراعلیٰ کو فارغ کر کے نیا نامزد کیا گیا وہ کسی بھی جمہوریت میں ممکن نہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔