اے این پی پارلیمانی اور جمہوری اصولوں پر پرعزم ہے
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور(آئی این پی )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے کہا ہے کہ اے این پی پارلیمانی اور جمہوری اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ملک کی سیاسی روایت کو مستحکم کرنے کیلیے پرعزم ہے۔ مرکزی صدر ایمل ولی خان کا حالیہ بیان پارلیمانی بالادستی کا غیرمشروط اثبات ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ سے ایوان کی بالادستی کی علمبردار رہی ہے۔ ایمل ولی خان کی سینیٹ میں تقریر کا محور یہی بنیادی نظریہ تھا، جس میں کسی فرد یا ادارے کی بے حرمتی کی نیت قطعی بھی شامل نہیں تھی، معذرت نامناسب الفاظ کے استعمال کے حوالے سے ہے جوکہ جمہوری مزاج اور شائستہ سیاسی ثقافت کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہے۔ مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان کا کہنا ہے کہ مرکزی صدر ایمل ولی خان کے بیان کے ذریعے یہ بھی واضح ہوا کہ حکومت معدنیات و قدرتی وسائل کے حوالے سے کبھی بھی تجاوز نہیں کرے گی اور آئین میں درج صوبوں کے حقوق پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ہم مظلوم قومیتوں کے حقوق کے تحفظ کا عہد کرتے ہیں۔ ایمل ولی خان نے اس بات کو دہرایا ہے کہ وہ پختونخوا اور بلوچستان کی مظلوم قومیتوں کے نمائندے کے طور پر آئینی دائرہ کار سے تجاوز کے خلاف ہر صورت میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔ معدنی وسائل پر مقامی عوام کے حقوق کو تحفظ دینا ہماری اولین ترجیح ہے۔انجینئر احسان اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا مؤقف ہے کہ پختونخوا اور بلوچستان کے وسائل پر مقامی آبادیوں کو ترجیحی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ ہم معاشی ترقی کے حامی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مقامی عوام کے مفادات کو نظرانداز کیا جائے۔ہم دفاعی اداروں کے قومی کردار کے قدرشناس ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔عوامی نیشنل پارٹی کا مؤقف واضح اور مستحکم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوامی نیشنل پارٹی ایمل ولی خان
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔