گورنر فیصل کریم کنڈی نے سہیل آفریدی کو مل کر کام کرنےکی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
سٹی42: گورنر خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوں گے اور لازمی ہوں گے، فیصل کریم کنڈی نے نئے وزیراعلیٰ کو مِل کر کام کرنے کی پیشکش کی اور کہا، میں نہیں چاہتا کہ صوبے میں گورنر رول آئے یاایمرجنسی لگے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بدھ کے روز کہا، سہیل آفریدی کی اسمبلی میں تقریر جذباتی تھی وہ پی ٹی آئی کے ورکرز کیلئے تقریر تھی خیبر پختونخوا کے عوام کے لئے نہیں تھی۔
آغا سراج درانی کی وفات پر ملک میں گہرے دکھ اور افسوس کی لہر
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، سہیل آفریدی نوجوان لڑکا ہے اس عمر میں اس طرح کی تقاریر ہو جاتی ہیں۔
گورنر نے کہا، "میں نہیں چاہتا کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی نوبت آئے.
کوئلہ، لکڑی یا چارکول استعمال کرنے والے ریسٹورنٹس پر پابندی
پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں کیا کرےگی
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، مستقبل میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے اتحاد پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر پی ٹی آئی اپنا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزائی کو بنا سکتی ہے تو پھر بہت کچھ ہو سکتا ہے۔
علی امین گنڈاپور کے متعلق
قتل کے مقدمے کا اشتہاری مجرم گرفتار
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، حلف برداری کی تقریب میں علی آمین گنڈہ پور کو ہونا چاہیے تھا،جانے والا وزیر اعلی آنے والے وزیر اعلی کو وزارت اعلی دے کر جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا، علی آمین نے ہمیشہ صوبے میں تناو رکھا وفاق سے معاملات کو خراب رکھا۔ ہمارے صوبے کو وفاق پر یلغار نہیں کرنا چاہئے۔
گورنر نے کہا، صوبائی حکومت کو وفاق سے لڑائی کی بجائے این ایف سی اور اپنے بقایاجات کیلیے بات کرنی چاہیے تاکہ عوام کی فلاح ہو سکے۔ صوبے کے عوام اسلام آباد کیلیے بار بار لانگ مارچ کی متحمل نہیں ہو سکتے۔ کسی کو اسلام آباد پر یلغار اور لانگ مارچ سے "آزادی" نہیں ملےگی۔
قندھار و کابل میں پاک فوج کی کامیاب کارروائی، فتنہ الہندستان کی قیادت ختم
بانی کو دھرنوں، احتجاجوں سے رہانی نہیں ملےگی
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا، پی ٹی آئی کے بانی چیرمین کو دھرنوں، احتجاج سے آزادی نہیں ملنے گی۔ اس کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑے گا۔
Waseem Azmetذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا خیبر پختونخوا ہوں گے
پڑھیں:
وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
راولپنڈی میں خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کا دس گھنٹے طویل دھرنا مشاورتی اجلاس کے بعد ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ نمازِ فجر کے فوراً بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان علامہ ناصر عباس کی آمد اور اُن سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی، سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی نے شرکت کی، جس میں فیصلہ ہوا کہ کارکنوں کو منگل کے روز دوبارہ احتجاج کے لیے کال دی جائے گی جبکہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی جائے گی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں بھی بھرپور احتجاج کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مشاورت کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دھرنے کے مقام سے روانہ ہوگئے جبکہ وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی سرد موسم میں سڑک کنارے آگ کے پاس بیٹھے رہے۔
محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ دھرنا کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا بلکہ وزیرِاعلیٰ کے اس یقین کے بعد سامنے آیا کہ عدالتیں ایک صوبائی سربراہ کو اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دیں گی، مگر یہاں شرافت کی زبان سمجھنے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ایک جمہوری پشتون کی حیثیت سے دھرنا دیا ہے اور یہ ممکنہ طور پر عدالتی حکم تک جاری رہے گا۔ انہوں نے حکمرانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’پانچ ہزار تین سو ارب کے چور‘‘ اور ’’مینڈیٹ چور‘‘ قرار دیا اور پی ٹی آئی قیادت کو تجویز دی کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات کرانی ہے تو عوامی طاقت کے ذریعے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی کارروائی روک دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ بانی چیئرمین جیل میں ہیں اور ہم اسمبلیوں میں کارروائی چلنے دیں۔
وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق عدالت کے واضح حکم کے باوجود نہ انہیں اور نہ دیگر رہنماؤں کو بانی چیئرمین سے ملنے دیا گیا، جبکہ پہلے ان کی بہنوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا اور انہیں اڈیالہ روڈ پر بالوں سے پکڑ کر بے عزت کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب بانی چیئرمین کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور بشریٰ بی بی کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ماضی میں لندن جانے والوں سے درجنوں لوگ ملاقات کرتے تھے۔ انہوں نے عدلیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں اپنے ہی احکامات پر عملدرآمد نہیں کرواتیں تو ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہو جائے گا اور ہر کوئی اپنا انصاف خود کرنے لگے گا جس سے ملک کو شدید نقصان پہنچے گا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ فجر کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے اور انہیں بتائیں گے کہ تین ججز پہلے ہی ملاقات کی اجازت سے متعلق واضح حکم دے چکے ہیں۔