نفسیاتی دباؤ ڈالنے کیلیے انعامی مہم شروع کر دی گئی، تائیوان کا چین پر الزام
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تائی پے : تائیوان کی حکومت نے بدھ کے روز چین کی جانب سے فوجی نفسیاتی آپریشن افسران کے خلاف انعامی اعلانات کو ذہنی جنگ کی ایک نئی شکل قرار دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان کے نیشنل سیکیورٹی بیورو (NSB) کے سربراہ تسائی منگ ین نے کہا کہ بیجنگ نے یہ اقدامات تائیوان کے یومِ آزادی (10 اکتوبر) کے فوراً بعد کیے ہیں، جو اس کی مسلسل دباؤ کی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔
انہوں نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ چین کی طرف سے جاری کی گئی یہ معلومات نفسیاتی جنگی مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، سیکیورٹی ادارے وزارتِ دفاع اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اہلکاروں کی شناخت خفیہ رکھنے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
خیال رہےکہ چینی صوبے فوجیان کے شہر شیامن کی پولیس نے چند روز قبل 18 افراد کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے 10 ہزار یوان (تقریباً 1,405 امریکی ڈالر) کے انعام کا اعلان کیا تھا۔
چین کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد تائیوان کی فوج کے Psychological Operations Battalion کے افسران ہیں جو علیحدگی پر اکسانےمیں ملوث ہیں۔
واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا علیحدہ ہو چکا صوبہ قرار دیتا ہے، جب کہ تائیوان کی حکومت اسے خودمختار ملک تسلیم کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔