ایس ایچ او شیخوپورہ کے قتل میں ملوث ملزمان کو انسداد دہشتگری عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے قتل کے چار مقدمات میں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا اور ملزمان کو 29 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے ڈنڈے، سوٹے اور اسلحہ برآمد ہو گیا ہے۔ ملزماں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ایس ایچ او تھانہ فیکٹری ایریا شیخوپورہ شہزاد جھمٹ کی شہادت اور قتل و اقدام قتل کے چار مقدمات میں گرفتار  تحریک لبیک کے 97 ملزم کارکنوں کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔ ا    یس ایچ او شیخوپورہ کے قتل میں ملوث ملزمان کو انسداد دہشتگری عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے قتل کے چار مقدمات میں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا اور ملزمان کو 29 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے ڈنڈے، سوٹے اور اسلحہ برآمد ہو گیا ہے۔ ملزماں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جائے۔ گرفتار ملزمان تحریک لبیک کے کارکنان ہیں۔ کارکنان کیخلاف قتل اور اقدام قتل اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ ملزماں میں محمد جاوید، محمد عامر، محمد رمیض، اعجاز احمد، محمد عثمان، سیف علی، زین علی، ذوالفقار احمد اور معظم حسین سمیت دیگر شامل ہیں۔ ملزمان کو سخت سکیورٹی میں لا کر عدالت پیش کیا گیا۔ عدالت کے احاطے میں بھاری نفری اور بکتر بند گاڑیاں بھی موجود تھیں، جبکہ ایلیٹ فورس عدالت کی سکیورٹی پر مامور کی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیش کیا گیا ملزمان کو

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا