علیمہ خان کو گرفتار اور بشریٰ بی بی کیخلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-01-19
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر ڈی چوک احتجاج کیس کے سلسلے میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ واضح رہے کہ تھانہ صادق آباد احتجاج کیس میں گزشتہ روز علیمہ خان پر فرد جرم عاید ہونا تھی، تاہم علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہوئیں، جس پر عدالت نے حاضری معافی کی درخواست مسترد کردی اور وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے علیمہ خان کو گرفتار کرکے آج( بدھ) 15 اکتوبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ طلبی کے باوجود بار بار پیش نہ ہونا عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالنا ہوتا ہے۔عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے آرڈرز فوری تفتیشی آفیسر کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی عدالت نے بشریٰ بی بی کے خلاف 29 مقدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ 26 نومبر احتجاج کیسز کے حوالے سے کیس کی سماعت میں عدالت نے بشریٰ بی بی کی 29 مقدمات میں عبوری ضمانتوں میں 4 نومبر تک توسیع کردی۔ دوران سماعت وکلا مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکے جبکہ پولیس بھی ریکارڈ نہیں لائی۔ جج امجد علی شاہ نے حکم دیا کہ آئندہ تاریخ پر تمام 29 مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔ عدالت نے فریقین وکلا کو بھی آئندہ تاریخ پر حتمی دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ پولیس کو جیل میں بشریٰ بی بی سے تفتیش بھی مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیش کرنے کا حکم علیمہ خان عدالت نے حکم دیا
پڑھیں:
9 مئی کے مقدمات: اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید کی 10 سال کی سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر
لاہور ہائی کورٹ میں 9 مئی کے مقدمات میں اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کی 10 سال کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی۔
رجسٹرار آفس لاہور ہائی کورٹ نے اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کی اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔
جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 4 دسمبر کو اپیلوں پر سماعت کرے گا۔
عدالت نے پراسیکیوشن سے مقدمات کا ریکارڈ اور وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کر رکھا ہے۔
اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔
اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کی جانب سے اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بری کرنے کا حکم دے۔