---فائل فوٹو 

پنجاب پولیس کی جانب سے دارالخلافہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں مذہبی جماعت کے پُرتشدد مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق مذہبی جماعت کے پُرتشدد مظاہرین کے خلاف چھاپے مارے گئے۔

پولیس کے مطابق توڑ پھوڑ کرنے والے 2716 پُرتشدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لاہور سے 251 افراد، گوجرانوالہ سے 135، شیخوپورہ سے 178، سیالکوٹ سے 128، گجرات سے 80، راولپنڈی سے 196، منڈی بہاءالدین سے 210، اٹک اور صادق آباد سے بھی مذہبی جماعت کے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مذہبی جماعت کے پُرتشدد احتجاج میں پولیس پر تشدد ہوا، مریض اسپتال نہیں جا سکتے

حکومتی ذرائع کے مطابق غزہ امن منصوبے پر غزہ سمیت تمام اسلامی ممالک میں خوشیاں منائی جارہی ہیں ۔ جب کہ شرپسند جتھا احتجاج کر رہا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف پنجاب بھر کے تھانوں میں 76 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

لاہور میں 39، شیخوپورہ میں 8 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

پنجاب پولیس کے ریکارڈ کے مطابق پُرتشدد مظاہرین کے حملوں میں ایک پولیس انسپیکٹر شہید  250 پولیس افسران و اہلکار زخمی ہوئے، لاہور میں سب سے زیادہ 142 افسران اور اہلکار زخمی ہوئے۔

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق مظاہرین کے حملوں سے شیخوپورہ میں 48 پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پ رتشدد مظاہرین مذہبی جماعت کے مظاہرین کے پولیس کے کے مطابق کے خلاف

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور