اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 اکتوبر 2025ء) افغان حکام نے بدھ کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر تازہ جھڑپوں میں پندرہ شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ مقامی محکمہ اطلاعات کے ترجمان علی محمد حقمل کے مطابق افغانستان کے جنوبی ضلع اسپن بولدک میں رات دیر گئے جھڑپیں شروع ہوئیں اور ان کے مطابق اس میں 15 شہری مارے گئے۔

اسپن بولدک میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ایک اہلکار عبدالجان بارک نے بھی اے ایف پی سے بات چیت میں ہلاکتوں کی اس تعداد کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس واقعے میں 80 سے زائد خواتین اور بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی سوشل میڈیا ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ بدھ کے روز افغانستان پر پاکستانی فورسز کے حملوں میں 12 سے زائد شہری ہلاک اور 100 دیگر زخمی ہوئے۔

(جاری ہے)

تاہم اس بیان میں سکیورٹی فورسز کے کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا۔

البتہ افغان طالبان کے ترجمان کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور پوسٹوں اور ہتھیاروں کو قبضے میں لینے کے بعد علاقے میں امن واپس آ گیا ہے۔

پاکستان نے اس بارے میں کیا کہا؟

پاکستان میں حکام نے ان تازہ جھڑپوں کے بارے میں ابھی تک براہ راست کچھ نہیں کہا ہے، تاہم خبر رساں ادارے اے پی کی اطلاع کے مطابق پاکستان میں سرکاری میڈیا نے حکام کے حوالے سے ایک دور افتادہ شمال مغربی سرحدی علاقے میں ہونے والے اس تصادم کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان میں سرکاری میڈیا نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دو اہلکاروں کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ سرحدی علاقے میں افغان فوجیوں نے "بلا اشتعال فائرنگ" شروع کی تھی، اس حملے کا ناکام بنا دیا گیا تھا۔

پاکستان ٹی وی کے مطابق اسے دو اہلکاروں نے بتایا کہ فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان ٹینکوں اور فوجی چوکیوں کو نقصان پہنچایا۔

پاکستانی میڈیا کی اطلاع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں اور افغان فوجیوں نے مشترکہ طور پر "بلا اشتعال" ایک پاکستانی پوسٹ پر فائرنگ کی، جس کا پاکستانی فوجیوں نے سخت جواب" دیا۔ میڈیا کے مطابق یہ واقعہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کرم میں پیش آیا۔

سکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے ٹی ٹی پی کے ایک وسیع تربیتی کیمپ کو بھی تباہ کر دیا۔

البتہ پاکستان کی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، جو ہفتے کے روز سے ہائی الرٹ پر ہے، جب دونوں ملکوں کی جانب سے متعدد سرحدی علاقوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی

اس ہفتے یہ دوسرا ایسا موقع ہے جب دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان طویل سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

اس سے قبل افغانستان نے بارہ اکتوبر اتوار کے روز کہا تھا کہ اس نے اپنی سرزمین اور فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزیوں کے جواب میں رات بھر کی سرحدی کارروائیوں میں 58 پاکستانی فوجی ہلاک کر دیے۔

اگرچہ سعودی عرب اور قطر کی اپیلوں کے بعد اتوار کو جھڑپیں روک دی گئیں تھیں، تاہم اس وقت سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام سرحدی گزرگاہیں بدستور بند ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان 2,611 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے جسے ڈیورنڈ لائن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ادارت: عدنان اسحاق

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اور افغان کے درمیان بتایا کہ کے مطابق کے روز

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں