پاکستان اپنی سرزمین کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا:فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
افواج پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے پاک افغان سرحد کا دورہ کیا اور فوجی جوانوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس دوران پاکستانی فورسز نے افغانستان کی متعدد چوکیوں پر حملہ کر کے 19 چوکیوں پر قبضہ کیا اور دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا افغان فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی رات کے وقت کئی مختلف سرحدی مقامات پر ایک ساتھ کی گئی، جس کا مقصد دہشت گردوں کے منظم نیٹ ورک کو توڑنا اور پاکستانی علاقوں میں دراندازی کی کوششوں کو روکنا تھا۔فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اپنے دورے کے دوران کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر جارحیت کا سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز ہر حال میں سرحدوں کی حفاظت کے لیے تیار ہیں اور دشمن کو کسی بھی کارروائی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔یہ کامیاب کارروائی پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی تیاری کا ثبوت سمجھی جا رہی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔